بھارت

“کاکروچ جنتا پارٹی” سوشل میڈیا پر وائرل، چیف جسٹس کے بیان کے بعد نئی ڈیجیٹل سیاسی مہم نے ہلچل مچادی

یہ پورا تنازع اُس وقت شروع ہوا جب ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بے روزگار نوجوان، جنہیں معاشرے میں مناسب مقام حاصل نہیں ہورہا، “کاکروچ” کی طرح بنتے جارہے ہیں اور آر ٹی آئی کارکنوں کی صورت میں ہر چیز پر تنقید کررہے ہیں۔

نئی دہلی: “کاکروچ جنتا پارٹی” نامی ایک طنزیہ سیاسی جماعت اس وقت ملک بھر میں سوشل میڈیا پر غیرمعمولی توجہ حاصل کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس Justice Surya Kant جسٹس سوریہ کانت کے ایک متنازعہ بیان کے بعد وجود میں آنے والی اس ڈیجیٹل تحریک نے صرف 76 گھنٹوں میں تقریباً 45 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کرکے سب کو حیران کردیا۔

رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پبلک ریلیشنس کے طالب علم اور سابق پولیٹیکل سوشل میڈیا والنٹیر Abhijeet Dipke ابھیجیت دپکے نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کینوا ڈیزائننگ ٹول کی مدد سے اس منفرد آن لائن سیاسی مہم کی شروعات کی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس جماعت کیلئے باقاعدہ آئین، الگ ویب سائٹ اور پانچ نکاتی منشور بھی تیار کیا گیا ہے۔

یہ پورا تنازع اُس وقت شروع ہوا جب ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بے روزگار نوجوان، جنہیں معاشرے میں مناسب مقام حاصل نہیں ہورہا، “کاکروچ” کی طرح بنتے جارہے ہیں اور آر ٹی آئی کارکنوں کی صورت میں ہر چیز پر تنقید کررہے ہیں۔

چیف جسٹس کے ان ریمارکس نے پہلے ہی بے روزگاری، بدعنوانی، روپے کی گرتی قدر، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور پیپر لیک جیسے مسائل سے پریشان نوجوانوں میں شدید ناراضگی پیدا کردی۔

اسی پس منظر میں ابھیجیت دپکے نے “کاکروچ جنتا پارٹی” قائم کرتے ہوئے کہا کہ اگر نظام نوجوانوں کو “کاکروچ” سمجھتا ہے تو پھر یہی “کاکروچ” متحد ہوکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔

پارٹی کے سوشل میڈیا پر آتے ہی چند گھنٹوں میں اسے زبردست عوامی حمایت حاصل ہوگئی۔ انسٹاگرام، ایکس، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس جماعت سے متعلق میمز، ویڈیوز اور پوسٹس تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔

بعد ازاں چیف جسٹس سوریہ کانت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اشارہ صرف اُن افراد کی طرف تھا جو جعلی ڈگریوں کے ذریعے نظام کو گمراہ کرتے ہیں، تاہم تب تک یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ایک بڑے احتجاجی اور طنزیہ رجحان کی شکل اختیار کرچکا تھا۔

دوسری جانب “کاکروچ جنتا پارٹی” نے خود کو “سست اور بے روزگار افراد کی آواز” قرار دیا ہے۔ پارٹی کا نعرہ “سیکولر، سوشلسٹ، ڈیموکریٹک اینڈ لیزی” رکھا گیا ہے، جو سوشل میڈیا صارفین میں خاصا مقبول ہورہا ہے۔

پارٹی میں شمولیت کیلئے بھی دلچسپ شرائط رکھی گئی ہیں۔ پارٹی کے مطابق رکن بننے والا شخص رضاکارانہ یا مجبوری کے تحت بے روزگار ہونا چاہئے، روزانہ کم از کم 11 گھنٹے فون یا انٹرنیٹ استعمال کرتا ہو اور سوشل میڈیا پر عوامی مسائل پر مسلسل آواز اٹھاتا ہو۔

اس جماعت کا پانچ نکاتی منشور بھی کافی موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ منشور میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی چیف جسٹس کو راجیہ سبھا کی نشست نہ دی جائے، ووٹر لسٹ سے اہل ووٹروں کے نام حذف کرنے پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف یو اے پی اے قانون کے تحت کارروائی کی جائے، جبکہ پارلیمنٹ اور کابینہ میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دیا جائے۔

منشور میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ اداروں کے زیرِ اثر میڈیا لائسنس منسوخ کرکے آزاد میڈیا کو ترجیح دی جائے، جبکہ ایک پارٹی سے جیت کر دوسری پارٹی میں شامل ہونے والے ارکانِ اسمبلی یا پارلیمنٹ پر 20 برس تک انتخاب لڑنے پر پابندی عائد کی جائے۔

پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آر ٹی آئی کے دائرے میں رہے گی اور کسی بھی قسم کے خفیہ عطیات قبول نہیں کرے گی، جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس جماعت کو روایتی سیاست کے خلاف “ڈیجیٹل احتجاج” قرار دے رہی ہے۔