ایران معاملہ: ٹرمپ کیلئے مشکلات بڑھنے لگیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فوجی اختیارات محدود کرنے سے متعلق ایک تجویز امریکی سینیٹ میں منظور کر لی گئی ہے۔ ووٹنگ کے دوران 4 ریپبلکن سینیٹروں نے بھی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا جبکہ 3 ریپبلکن سینیٹر ووٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فوجی اختیارات محدود کرنے سے متعلق ایک تجویز امریکی سینیٹ میں منظور کر لی گئی ہے۔ ووٹنگ کے دوران 4 ریپبلکن سینیٹروں نے بھی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا جبکہ 3 ریپبلکن سینیٹر ووٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔
یہ تجویز 47 کے مقابلے 50 ووٹوں سے منظور ہوئی، تاہم قانون بننے کیلئے اسے ابھی مزید مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اگر یہ تجویز قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کیلئے کانگریس سے منظوری لینا لازمی ہوگا۔ابھی اس معاملہ پر سینیٹ میں حتمی ووٹنگ باقی ہے۔ اس کے بعد اسے ریپبلکن اکثریت والے ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز سے بھی منظوری درکار ہوگی۔
تاہم اس کے بعد بھی ڈونالڈ ٹرمپ اس کے خلاف ویٹو استعمال کر سکتے ہیں۔ پھر اس ویٹو کو مسترد کرنے کے لئے سینیٹ اور ہاؤس دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی جسے فی الحال مشکل سمجھا جا رہا ہے۔اس ووٹنگ کو اپوزیشن کیلئے بڑی کامیابی مانا جا رہا ہے، کیونکہ اپوزیشن مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی تھی کہ امریکہ میں جنگ شروع کرنے یا فوج بھیجنے کا اختیار صدر نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے۔
امریکی آئین میں بھی یہی نظام موجود ہے۔یہ تجویز ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے پیش کی۔ بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ جب جنگ بندی کی بات ہو رہی ہے تو ڈونالڈ ٹرمپ کو پارلیمنٹ کے سامنے آ کر اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہیے۔ٹم کین نے کہا کہ جنگ شروع کرنے کا اختیار صرف صدر کے پاس نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی سلامتی کے تحفظ کیلئے اپنے آئینی اختیارات کے تحت کارروائی کی ہے۔امریکی قانون کے مطابق کوئی بھی صدر پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔
اس کے بعد یا تو جنگ ختم کرنا ہوتی ہے، یا کانگریس سے اجازت لینا ہوتی ہے، یا پھر فوج کی محفوظ واپسی کے لئے مزید 30 دن کی مہلت طلب کی جا سکتی ہے۔