سوشیل میڈیا
ٹرینڈنگ

شرمناک ٹرینڈ: کیا ڈیجیٹل ریٹنگز کیلئے حیا اور ثقافت کو قربان کیا جا رہا ہے؟ باپ کے سامنے بیٹی کا اغوا یا فلمی ڈرامہ؟ (ویڈیو)

محض چند لائکس کے لیے حیا اور پردے کے تقدس کو مذاق بنانا دنیا کو ایک انتہائی غلط میسیج دے رہا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی تہذیب کو ڈیجیٹل ریٹنگ کی بھینٹ تو نہیں چڑھا رہے؟

نئی دہلی: سوشل میڈیا کی اس چمک دھمک بھری دنیا میں اکثر جو نظر آتا ہے وہ حقیقت نہیں ہوتا اور جو حقیقت ہوتی ہے وہ شاید کیمرے کی آنکھ سے اوجھل رہ جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں
پلر نمبر 100 پر سنسنی خیز واقعہ، نشے میں دھت شخص تار سے لٹک گیا

آج کل ویوز اور لائکس کی دوڑ میں اخلاقی اقدار اور انسانی جذبات کو محض ایک ‘مواد’ (Content) سمجھ کر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ہر وائرل ہونے والی چیز پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیں۔

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ویوز اور شہرت کی خاطر اخلاقی حدود کو پامال کرنا درست ہے؟ ایک پردہ نشین لڑکی کو اس طرح کے ڈراموں کا حصہ بنانا اور سرِ عام ایسی حرکتیں کرنا معاشرے کو کیا پیغام دے رہا ہے؟

محض چند لائکس کے لیے حیا اور پردے کے تقدس کو مذاق بنانا دنیا کو ایک انتہائی غلط میسیج دے رہا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی تہذیب کو ڈیجیٹل ریٹنگ کی بھینٹ تو نہیں چڑھا رہے؟

وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کے ساتھ سڑک پر جا رہا ہوتا ہے۔ اچانک ایک نوجوان وہاں پہنچتا ہے اور لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسی حرکت دیکھ کر والد کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے اور وہ فوراً اس لڑکے سے الجھ پڑتا ہے۔

اسی کشمکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ لڑکا لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے فرار ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ وہاں موجود لوگ صرف دیکھتے ہی رہ گئے۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ویڈیو صرف ویوز حاصل کرنے کے لیے پہلے سے پلان کی گئی تھی اور محض ایک اسکرپٹڈ ڈرامہ ہے۔

وہیں کچھ صارفین اس بات پر حیران ہیں کہ دن دہاڑے باپ کے سامنے سے کوئی لڑکی کو اس طرح کیسے لے جا سکتا ہے۔