قومی

مودی حکومت، نوجوانوں سے خوفزدہ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور عدلیہ کو غلام بنالیا گیا: سنجے راوت

شیوسینا (یو بی ٹی) رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ماحولیات کارکن سونم وانگ چک کی جاریہ بھوک ہڑتال کے پس منظر میں پیر کے دن مرکزی حکومت کو نشانہ تنقید بنایا۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) شیوسینا (یو بی ٹی) رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ماحولیات کارکن سونم وانگ چک کی جاریہ بھوک ہڑتال کے پس منظر میں پیر کے دن مرکزی حکومت کو نشانہ تنقید بنایا۔

انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ”نوجوانوں سے خوفزدہ ہے“ اور پولیس کی طاقت کے ذریعہ جنتر منتر پر جمہوری احتجاج کو دبارہی ہے۔ جنتر منتر پر جمع نوجوانوں سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ حکومت نے ابتدا میں سونم وانگ چک اور ابھیجیت دِپکے جیسی ممتاز آوازوں کو معمولی سمجھ کر خِارک کردیا۔

حکومت نے سوچا کہ وہ ان کارکنوں کو چھوٹے کیڑوں کی طرح مسل سکتی ہے لیکن یہ نام نہاد کاکروچ (جھینگر) بڑے جاندار نکلے۔ آج سارے ملک کے لوگ ان کی تائید میں نکل رہے ہیں۔ سنجے راوت نے پرامن ریالیوں کی اجازت نہ دینے پر این ڈی اے حکومت کو نشانہ ئ تنقید بنایا اور کہاکہ حقیقی جمہوری قیادت احتجاجیوں سے بات کرتی ہے‘ ان کے مارچ پر پابندی نہیں لگاتی۔

وہ سونم وانگ چک جیسے کارکنوں کو زبردستی دواخانہ میں شریک نہیں کراتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کی شکایتیں راست دور کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تاکہ ملک کی نوجوان نسل کو اطمینان ہو۔ شیوسینا (یو بی ٹی) قائد نے ریمارک کیا کہ حکومت کو موقع ملے تو وہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کو ان احتجاجیوں کے پیچھے لگادے گی۔

انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ پارلیمنٹ جانے سے روکا گیا تو سیدھے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی طرف مارچ کرو۔

ای ڈی اور عدلیہ کو غلام بنالی گئی ایجنسیاں قراردیتے ہوئے انہو ں نے الزام عائد کیا کہ اہم دستوری ادارے بشمول سپریم کورٹ‘ دستوری اقدار کے تحفظ کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے زیراثر کام کررہے ہیں۔ سنجے راوت نے کہا کہ عدالتیں اگر واقعی آزاد ہوتیں وہ حکومت کو ہدایت دیتیں کہ نوجوانوں کی بات سنو‘ ان کی شکایتیں دور کرو۔