شمالی بھارت

مودی نے ملک کے سب سے طویل کیبل پر مبنی  پل ‘سدرشن سیتو’ کا افتتاح کیا

یہ تقریباً 2.32 کلومیٹر کا ملک کا سب سے طویل کیبل سے مربوط پل ہے مودی نے’ وکست بھارت، وکست گجرات ‘کے عزم کو پورا کرنے والے اور دیوبھومی دوارکا ضلع سمیت گجرات کی مخصوص پہچان بننے والے اس سدرشن پل کو عام لوگوں کے لئے کھولا۔

دیو بھومی دوارکا: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج گجرات کے اوکھا اور بیت دوارکا کو جوڑنے والے تقریباً 980کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے بنائے گئے ملک کے سب سے طویل کیبل پر مبنی پل ‘سدرشن سیتو’ کا افتتاح کیا۔

متعلقہ خبریں
دہلی میں بی آر ایس کے مرکزی دفتر کا جلد افتتاح
”بھارت میراپریوار۔ میری زندگی کھلی کتاب“:مودی
وزیر اعظم کے ہاتھوں اے پی میں این اے سی آئی این کے کیمپس کا افتتاح
اڈانی مسئلہ پر کانگریس سے وضاحت کامطالبہ، سرمایہ کاری کے دعوؤں پر شک و شبہات
سفارتی تنازعہ، دفتر خارجہ میں مالدیپ کے سفیر کی طلبی

 یہ تقریباً 2.32 کلومیٹر کا ملک کا سب سے طویل کیبل سے مربوط پل ہے مودی نے’ وکست بھارت، وکست گجرات ‘کے عزم کو پورا کرنے والے اور دیوبھومی دوارکا ضلع سمیت گجرات کی مخصوص پہچان بننے والے اس سدرشن پل کو عام لوگوں کے لئے کھولا۔

اس پل کی تعمیر سے اب عقیدتمندوں کو جزیرہ بیت دوارکا جانے کیلئے کشتی ٹرانسپورٹ پر منحصر ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ 980 کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ دو اعشاریہ تین دو کلومیٹر طویل مثالی پل دیو بھومی دوارکا کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا باعث بنے گا۔ کیبل سے تیار اس پل کو سگنیچربرج بھی کہا جاتا ہے۔

سدرشن سیتو کا ذیزائن انفرادیت کا حامل ہے، جس میں شریمد بھگود گیتا کے شلوکوں اور دونوں طرف بھگوان کرشن کی تصاویر سے مزین فٹ پاتھ شامل ہے۔ اس میں فٹ پاتھ کے اوپری حصوں پر سولر پینل بھی نصب ہیں، جو ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔

 یہ پل آمدورفت میں آسانی پیدا کرے گا اور دوارکا اور بیت دوارکا کے درمیان سفر کرنے والے عقیدت مندوں کے وقت میں نمایاں کمی کا سبب بنے گا۔ پل کی تعمیر سے پہلے، یاتریوں کو بیت دوارکا تک پہنچنے کے لیے کشتیوں کی نقل و حمل پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ یہ مشہور پل دیو بھومی دوارکا کے ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پر بھی کام کرے گا۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے ساتھ گجرات کے گورنر،آچاریہ دیوورت، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور رکن پارلیمنٹ سی آر پاٹل اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔