قومی

پردھان کے استعفیٰ تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا: سی جے پی

کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) نے چہارشنبہ کے دن ماحولیات کارکن سونم وانگ چک سے اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کردیں۔ اس نے کہا کہ ان کی قربانی نے سارے ملک کے طلبا کو تحریک دی ہے۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) نے چہارشنبہ کے دن ماحولیات کارکن سونم وانگ چک سے اپیل کی کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کردیں۔ اس نے کہا کہ ان کی قربانی نے سارے ملک کے طلبا کو تحریک دی ہے۔

مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ سی جے پی نے وانگ چک سے کہا کہ وہ اپنی صحت کو ترجیح دیں۔تنظیم نے وانگ چک کو یقین دلایا کہ احتجاج جاری رہے گا۔ سی جے پی کے بانی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کے 25 ویں دن بھی وزیراعظم نے خاموشی نہیں توڑی ہے۔ سیاست صرف الیکشن ریالیاں نکالنا اور انتخابات جیتنا نہیں ہے۔

سی جے پی کے مظاہرین نے چہارشنبہ کے دن جنترمنتر پر اپنا دھرنا جاری رکھا۔ کل رات اس کے مزید حامی جمع ہوئے۔ رضاکار غذا اور دیگر اشیاء بانٹ رہے تھے جو سی جے پی سے ہمدردی رکھنے والوں نے بھیجی تھیں۔ مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج دوسرے ماہ میں داخل ہوگیا۔

آج صبح ایکس پر پوسٹ میں سی جے پی نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں احتجاجی آج جنترمنتر پر موجود ہیں۔ اس نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ دُہرایا۔ پوسٹ میں پوچھا گیا کہ پردھان منتری کو منتری پردھان سے ملک کے نوجوانوں سے زیادہ پریم کیوں ہے؟۔ منگل کی رات کئی لوگوں نے غذائی اشیاء روانہ کیں کیونکہ جنتر منتر پر حامیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ دھرنا جاری ہے۔ علاقہ میں بھاری فورس تعینات ہے۔

سی جے پی ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ پردھان کے استعفیٰ تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دھرمیندر پردھان کے مستعفی ہونے تک یہ جگہ چھوڑنے والے نہیں۔ 20 جولائی ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگ ِ میل والا لمحہ تھا۔ نوجوان اب مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ منگل کی رات سی جے پی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے وضاحت جاری کی کہ جنتر منتر کے علاوہ کسی اور مقام پر اکٹھا ہونے کی کوئی اپیل نہیں کی گئی ہے۔ جنترمنتر پر ہمارا پرامن احتجاج جاری ہے۔ ہمیں خبرملی ہے کہ دہلی کے دیگر مقامات پر گڑبڑ کے لئے بعض غنڈے بھیجے گئے ہیں۔

یہ لوگ سی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔ احتجاج 20 جون کو شروع ہوا تھا۔ اسی دوران ارکان ِ پارلیمنٹ کے ایک وفد نے بھی سونم سے بھوک ہڑتال ختم کردینے کی اپیل کی۔ وفد نے گروگرام کے میدانتا میڈی سٹی ہاسپٹل جاکر سونم کی بیوی گیتانجلی سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ اور صاف و شفاف نظام تعلیم کی جدوجہد قومی کاز بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو خاص طورپر نوجوانوں کو سونم کی قربانی سے زیادہ رہنمائی کی ضرورت ہے۔ لداخ کو جس طرح سونم کی ضرورت ہے اسی طرح ملک کو بھی ان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کے پیام کی گونج سارے ملک میں سنائی دے گی اور اب اسے پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا جائے گا۔