اننت ناگ میں دہشت گرد حملہ، ہیڈکانسٹیبل ہلاک
جموں وکشمیر پولیس کو نشانہ بنانے کے لئے جاریہ سال کئے گئے پہلے دہشت گرد حملہ میں چہارشنبہ کے دن ضلع اننت ناگ میں امرناتھ یاترا کی سیکوریٹی پر تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک ہوگیا۔
سری نگر (پی ٹی آئی) جموں وکشمیر پولیس کو نشانہ بنانے کے لئے جاریہ سال کئے گئے پہلے دہشت گرد حملہ میں چہارشنبہ کے دن ضلع اننت ناگ میں امرناتھ یاترا کی سیکوریٹی پر تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک ہوگیا۔
دہشت گرد کو پکڑنے کے لئے بڑا آپریشن شروع کردیا گیا۔ کئی مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکرس کو حراست میں لیا گیا۔ اننت ناگ کے لال چوک میں دوپہر 12:30 بجے کے آس پاس ایک پولیس والے پر حملہ ہوا۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ آئی آر پی کی تیسری بٹالین کا ہیڈکانسٹیبل عاشق حسین جو امرناتھ یاترا کی سیکوریٹی کے لئے تعینات تھا‘ گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا۔
اسے اننت ناگ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔ لشکر طیبہ کی نیابتی تنظیم دی ریسسٹنٹ فرنٹ(ٹی آر ایف) نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ حملہ کی ذمہ داری قبول کی۔ کانسٹیبل کی ہلاکت کے فوری بعد سیکوریٹی فورسس نے علاقہ کو گھیر کر بڑی تلاشی مہم شروع کردی۔
ڈائرکٹر جنرل پولیس نلین پربھات نے مقام حملہ کا دورہ کیا تاکہ صورتِ حال کا راست جائزہ لے سکیں۔ جنوبی کشمیر کے 4 اضلاع اننت ناگ‘ پلوامہ‘ شوپیان اور کلگام میں سیکوریٹی فورسس نے بڑے پیمانہ پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ اس نے چند گھنٹوں میں کئی مشتبہ اوورگراؤنڈ ورکرس کو حراست میں لے لیا۔
پلوامہ میں کئی مقامات پر موبائل ناکے لگادیئے گئے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس شفاعت نذر نے تلاشی مہم کی نگرانی کی۔ چاروں اضلاع میں سینئر پولیس عہدیدار اپنے اپنے علاقوں میں آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس پر جاریہ سال یہ پہلا دہشت گرد حملہ ہے۔ سیاسی قائدین نے اس کی مذمت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے صورتِ حال کا جائزہ لینے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے بات کی۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے بھی حملہ کی مذمت کی۔ سی پی آئی ایم قائد محمد یوسف تریگامی‘ پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون اور اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بھی ہلاکت کی مذمت کی۔ ساری وادی میں سیکوریٹی فورسس چوکس ہیں۔