قومی

وزیراعلیٰ کے عہدے کی بات چیت تیز ہونے کے درمیان راہل گاندھی نے کیرالہ کے کانگریس لیڈران سے رابطہ کیا

راہل گاندھی نے سینئر لیڈر اڈور پرکاش سے بھی بات کی، جس میں خاص طور پر ریاست کے موجودہ سیاسی ماحول پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران وزیرِ اعلیٰ کے امیدواروں کے ناموں پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اڈور پرکاش نے عوامی بے چینی کو دیکھتے ہوئے قیادت سے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے کی اپیل کی۔

ترواننت پورم: کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کی اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد کیرالہ کے اگلے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کو لے کر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں
وزیراعظم۔ وزیر داخلہ کی جوڑی نے الیکشن کمیشن کی آزادی ختم کردی: کانگریس
مسلمان شخص کی ہوٹل میں بین الاقوامی معیار کی صفائی، سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران انکشاف
گوالیار کی شاہی ریاست نے انگریزوں کی حمایت کی تھی:پون کھیڑا
جنگ بدر حق وباطل کا فیصلہ کن معرکہ
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ

اسی دوران سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بدھ کے روز کیرالہ کانگریس کے کئی رہنماؤں سے ذاتی طور پر فون پر بات چیت کی۔ اس سے قیادت کے تعطل کو حل کرنے میں ہائی کمان کی سرگرم شمولیت کا اشارہ ملتا ہے۔


بدھ کو سہ پہر 3 سے 4 بجے کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت راہل گاندھی کے کیرالہ قیادت کے معاملے پر بات چیت کرنے کے لئے نئی دہلی میں واقع کانگریس صدر ملیکا ارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر ہونے والی اہم میٹںگ سے ٹھیک پہلے ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کئی رہنما اس بات پر حیران تھے کیونکہ انہیں پہلے سے کوئی اشارہ نہیں ملا تھا کہ راہل گاندھی خود ان سے براہِ راست رابطہ کریں گے۔


جن سے رابطہ کیا گیا ان میں سینئر کانگریس لیڈر کوڈیکنل سریش بھی شامل ہیں۔ بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے کیرالہ کی مجموعی سیاسی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔


راہل گاندھی نے سینئر لیڈر اڈور پرکاش سے بھی بات کی، جس میں خاص طور پر ریاست کے موجودہ سیاسی ماحول پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران وزیرِ اعلیٰ کے امیدواروں کے ناموں پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اڈور پرکاش نے عوامی بے چینی کو دیکھتے ہوئے قیادت سے فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے کی اپیل کی۔


کیرالہ پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے سابق صدر ملاپلی رام چندرن کو بھی راہل گاندھی کا فون آیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے کیرالہ کے سیاسی ماحول پر ان کی رائے لی اور پوچھا کہ یو ڈی ایف کو ملے عوامی مینڈیٹ کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے پارٹی کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔ اطلاعات کے مطابق کسی بھی لیڈر اورممکنہ وزیرِ اعلیٰ کے امیدوار پر بات نہیں ہوئی۔


پارٹی ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے گزشتہ دو دنوں میں وزیرِ اعلیٰ کے اعلان میں تاخیر کی وجوہات سمجھنے کے لیے کیرالہ کانگریس کے سینئر لیڈران اور کے پی سی سی کے سابق صدور سے تفصیلی مشاورت کی ہے۔

ایسا خیال کیا جاتا ہے راہل گاندھی نے انفرادی امیدواروں پر براہِ راست گفتگو کے بجائے کیرالہ کے سیاسی ماحول، قیادت کے مسئلے پر عوامی ردعمل، دباؤ کی مہم اور پارٹی کی شبیہ کو نقصان پہنچائے بغیر غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کے ممکنہ طریقوں پر توجہ دی ہے۔


ذرائع کے مطابق کیرالہ میں قیادت سے متعلق بات چیت جس انداز میں آگے بڑھ رہی تھی اس سے راہل گاندھی مطمئن نہیں تھے، خاص طور پر دھڑے بندی کے بڑھتے دباؤ اور حریف کیمپوں کے حامیوں کے عوامی مظاہروں کے پیش نظر۔ کئی رہنماؤں نے مبینہ طور پر انہیں بتایا کہ مسلسل تاخیر سے یو ڈی ایف کی بڑی انتخابی جیت سے پیدا ہونے والی مثبت فضا متاثر ہو سکتی ہے۔