دہلی

1991 کا مذہبی مقامات قانون فوری رد کردیا جائے : ہرناتھ سنگھ یادو

بی جے پی رکن پارلیمنٹ ہرناتھ سنگھ یادو نے پیر کے دن مطالبہ کیا کہ 1991کا مذہبی مقامات قانون فوری برخاست کردیا جائے۔

نئی دہلی: بی جے پی رکن پارلیمنٹ ہرناتھ سنگھ یادو نے پیر کے دن مطالبہ کیا کہ 1991کا مذہبی مقامات قانون فوری برخاست کردیا جائے۔

متعلقہ خبریں
سدارامیا کو ’’کاہل‘‘ قرار دینے پر بی جے پی ایم پی کے خلاف ایف آئی آر درج
مہوا موئترا پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کا نیا الزام

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ قانون ہندوؤں‘ سکھوں‘ جین اور بدھسٹوں کو دستور کی رو سے فراہم مذہبی حقوق میں آڑے آتا ہے۔ راجیہ سبھا میں وقفہ ئ صفر میں انہو ں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ قانون ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پلیسس آف ورشپ ایکٹ پوری طرح غیرمنطقی اور غیردستوری ہے۔ یہ ہندوؤں‘ سکھوں‘ بدھسٹوں اور جین مت کے ماننے والوں کے مذہبی حقوق چھین لیتا ہے۔

یہ قانون ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچارہا ہے لہٰذا حکومت سے میری اپیل ہے کہ قوم کے مفاد میں اس قانون کو فوری رد کردیا جائے۔

اس قانون کی رو سے 15 اگست 1947 کو جو مسجد‘ مسجد تھی مسجد ہی رہے گی اور جو مندر‘ مندر تھا وہ مندر رہے گا۔ اسی طرح دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کا بھی معاملہ ہوگا۔

ہرناتھ سنگھ یادو نے دلیل دی کہ یہ قانون مساوات اور سیکولرازم کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے جو دستور میں درج ہیں۔ بی جے پی رکن ِ پارلیمنٹ کا یہ مطالبہ وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کے کرشن جنم بھومی۔ شاہی عیدگاہ مسجد تنازعہ میں جاری قانونی کشاکش کے پس منظر میں ہوا ہے۔

ہرناتھ سنگھ یادونے یہ بھی کہا کہ 1991 کے قانون میں جو تاریخ مقرر کی گئی وہ غیرمنطقی ہے۔ اس سے ہندوؤں‘ سکھوں‘ جین اور بدھ مت کے ماننے والوں کے مذہبی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے ان ریمارکس کی ستائش کی کہ آزادی کے بعد طویل عرصہ تک برسراقتدار رہنے والوں نے عبادت گاہوں کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔