دہلی

راشن فراڈ کا ہوگا خاتمہ! اسمارٹ راشن کارڈ اور فیس ریکگنیشن سسٹم متعارف کرانے کی تیاری

تاکہ راشن کی سہولت حقیقی مستحقین تک شفاف انداز میں پہنچ سکے

نئی دہی:  دہلی حکومت نے عوامی تقسیم کے نظام (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) کو مزید شفاف، محفوظ اور جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی کیو آر کوڈ  اور فیس ریکگنیشن  ٹیکنالوجی سے لیس اسمارٹ راشن کارڈ متعارف کرائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد جعلی راشن کارڈز، ڈپلیکیٹ اندراجات، بلیک مارکیٹنگ اور سبسڈی والے غذائی اجناس کی غیر قانونی منتقلی کو روکنا ہے، تاکہ راشن کی سہولت حقیقی مستحقین تک شفاف انداز میں پہنچ سکے۔

دہلی حکومت پورے شہر میں اسمارٹ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (Smart-PDS) نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس نظام کے تحت راشن کارڈ ہولڈرز یہ جان سکیں گے کہ ان کا راشن کب جاری ہوا، کس سرکاری راشن کی دکان تک پہنچا اور کس تاریخ کو تقسیم کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات کے لیے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ وہ گھر بیٹھے آن لائن ہی اپنے راشن کارڈ میں خاندان کے کسی فرد کا نام شامل یا حذف کر سکیں گے، ضروری دستاویزات اپ لوڈ کر سکیں گے اور اپنی درخواست کی موجودہ صورتحال بھی معلوم کر سکیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون کے ذریعے بھی راشن کی سپلائی اور غذائی اجناس کی ترسیل پر نظر رکھی جا سکے گی، جس سے پورا نظام مزید شفاف اور جوابدہ بنے گا۔

حکومت موجودہ راشن کارڈز کو کیو آر کوڈ اور ڈیجیٹل تصدیق سے آراستہ اسمارٹ راشن کارڈز میں تبدیل کرے گی۔ کیو آر کوڈ کی مدد سے حکام راشن کارڈ کی اصلیت فوری طور پر جانچ سکیں گے اور جعلی یا ڈپلیکیٹ کارڈز کی نشاندہی آسانی سے ہو سکے گی۔

مزید برآں، ایسے افراد جن کے فنگر پرنٹس بایومیٹرک مشینوں پر درست طریقے سے میچ نہیں ہوتے، ان کے لیے فیس ریکگنیشن ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے، تاکہ وہ بھی بغیر کسی دشواری کے اپنے راشن کا حق حاصل کر سکیں۔

اس منصوبے کے کامیاب نفاذ کے لیے دہلی حکومت نے 16 رکنی "یوزر ایکسیپٹنس ٹیسٹنگ (UAT) کمیٹی” تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں دہلی کے 13 اضلاع کے اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ خوراک و رسد (فوڈ اینڈ سپلائز ڈپارٹمنٹ) کے افسران اور تکنیکی ماہرین شامل ہیں، جو اس نظام کی جانچ، نگرانی اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔

یہ نیا اسمارٹ راشن کارڈ نظام عوامی تقسیم کے نظام کو جدید، شفاف اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستحق افراد کو بہتر سہولتیں فراہم ہونے کے ساتھ ساتھ راشن کی تقسیم میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں پر بھی مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکے گا۔