تجارت

شیئر بازار میں مندی، آئی ٹی کمپنیوں میں فروخت کا دباؤ

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کی وجہ سے بازار میں چہار سو فروخت کا رجحان ہے۔ تمام انڈیکس سرخ نشان میں ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

ممبئی: امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل کے باعث جمعہ کے روز مقامی شیئر بازاروں میں ابتدائی کاروبار کے دوران گراوٹ دیکھی گئی، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیوں کے حصص میں سب سے زیادہ فروخت ریکارڈ کی گئی۔

بی ایس ای کا سینسیکس 180.20 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 77,483.80 پر کھلا اور اس کے بعد مسلسل نیچے گرتا گیا۔ خبر لکھے جانے تک یہ 762.03 پوائنٹس (0.98 فیصد) کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 76,901.97 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کی وجہ سے بازار میں چہار سو فروخت کا رجحان ہے۔ تمام انڈیکس سرخ نشان میں ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی-50 انڈیکس بھی 72.50 پوائنٹس پھسل کر 100.55 پوائنٹس پر کھلا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہ 198.90 پوائنٹس یعنی 0.82 فیصد نیچے 23,974.15 پوائنٹس پر تھا۔

آئی ٹی سیکٹر پر سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا اور اس کا انڈیکس دو فیصد سے زیادہ گر گیا۔ میڈیا سیکٹر میں بھی ایک فیصد سے زیادہ کی کمی رہی۔ دھات (میٹل)، آٹو، بینکنگ، فنانس، فارما اور تیل و گیس کے شعبوں پر بھی شدید دباؤ محسوس کیا گیا۔

سینسیکس کی کمپنیوں میں ‘ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز’ کے حصص اس وقت چار فیصد سے زیادہ نیچے ہیں۔ ‘انفوسس’ کے شیئرز میں بھی تقریباً چار فیصد کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ‘ٹیک مہندرا’، ‘ٹی سی ایس’، ‘سن فارما’ اور ‘ایٹرنل’ کے حصص دو سے تین فیصد تک گر گئے۔

اس کے علاوہ ‘بی ای ایل’، ‘بھارتی ایئرٹیل’، ‘ماروتی سوزوکی’، ‘پاور گرڈ’ اور ‘آئی سی آئی سی آئی بینک’ کے شیئرز میں ایک سے دو فیصد تک کی گراوٹ ہے۔ دوسری طرف ‘مہندرا اینڈ مہندرا’ کے حصص میں بہتری دیکھی گئی۔