حیدرآباد

تلنگانہ کے گروکل اسکولس میں طلبہ کو غذاکی کمی کا سامنا، کے ٹی آر کا الزام

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے دس سالہ دور حکومت میں تلنگانہ کی ترقی کو اجاگر کیاگیا تھا،تعلیم کی حالت پر توجہ دلاتے ہوئے، راما راؤ نے تعلیمی معیار میں گراوٹ کی نشاندہی کی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سابق وزیر و بی آرایس کے کارگذارصدرتارک راما راو نے تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی طرز حکمرانی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے گروکل اسکولس میں فوڈ پوائزنگ کے واقعات کے اعادہ اور طلبہ کو درپیش مشکلات کو روکنے کے لیے ریاستی حکومت کے ناقص اقدامات پر سوال اٹھایا۔

متعلقہ خبریں
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
کانگریس حکومت چھ ضمانتوں کو نافذ کرنے میں ناکام : فراست علی باقری
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

 راما راؤ نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں طلبہ نے بتایا کہ کھانے کے مطالبے پر انہیں گروکل اسکول میں بھکاری کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ایک ایسی ریاست جس نے 1.53 کروڑ میٹرک ٹن چاول کی پیداوار کی ہے اور بھارت کا چاول کا مرکز کہلاتی ہے، وہاں آج بچے کھانے کے لیے کیوں روتے ہیں؟”

 انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے دس سالہ دور حکومت میں تلنگانہ کی ترقی کو اجاگر کیاگیا تھا،تعلیم کی حالت پر توجہ دلاتے ہوئے، راما راؤ نے تعلیمی معیار میں گراوٹ کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا، ”وہ طلبہ جو کبھی گروکلس میں نمایاں کارکردگی دکھاتے تھے، ایورسٹ کو سر کرتے تھے، اور 100 فیصد کامیابی کی شرح حاصل کرتے تھے، آج ایک وقت کے کھانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ موجودہ انتظامیہ کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔