سوشیل میڈیاکرناٹک

دو ہاتھیوں کے درمیان خونی لڑائی، خاتون سیاح کچلے جانے سے ہلاک (ویڈیو)

ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت جیونیش (Jyunesh)کے نام سے ہوئی ہے، جو اس مشہور کیمپ میں ہاتھیوں کو نہلانے کی سرگرمی (Elephant Bathing) دیکھنے اور وہاں کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے آئی تھیں۔

کوڈنگو: کرناٹک کے ضلع کوڈگو میں واقع مشہور ‘دوبارے ایلیفینٹ کیمپ’ (Dubare Elephant Camp) میں اتوار کی دوپہر ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں دو ہاتھیوں کے درمیان ہونے والی اچانک لڑائی کی زد میں آکر چنئی سے آئی ہوئی ایک 33 سالہ خاتون سیاح کی جان چلی گئی۔

حکام کے مطابق، ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت جیونیش (Jyunesh)کے نام سے ہوئی ہے، جو اس مشہور کیمپ میں ہاتھیوں کو نہلانے کی سرگرمی (Elephant Bathing) دیکھنے اور وہاں کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے آئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ دوپہر تقریباً 12 بجے اس وقت پیش آیا جب ندی میں ہاتھیوں کو نہلانے کا عمل جاری تھا۔ ماؤتھ (ہاتھیوں کی دیکھ بھال کرنے والے) ‘مارتھنڈا’ اور ‘کنجن’ نامی دو ہاتھیوں کو ندی کے کنارے لائے تھے۔

Mahout Gaus جب ‘مارتھنڈا’ کو پانی کی طرف لے جا رہے تھے، تو وہ وہاں قریب ہی کھڑے دوسرے ہاتھی ‘کنجن’ سے حادثاتی طور پر ٹکرا گیا۔

اس معمولی ٹکراؤ نے ‘کنجن’ کو شدید غصے میں لا دیا، جس کے بعد دونوں ہاتھیوں کے درمیان اچانک خونی لڑائی شروع ہو گئی۔

ہاتھیوں کو آپس میں لڑتا دیکھ کر وہاں موجود سیاحوں میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اسی افراتفری کے دوران چنئی کی سیاح جیونیش دونوں ہاتھیوں کی لڑائی کے بیچ میں آ گئیں اور مبینہ طور پر ہاتھی کے پیروں تلے کچلے جانے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گئیں اور موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

ہاتھیوں کے Mahout Gaus اور وجئے (جو کنجن کو سنبھال رہے تھے) نے ہاتھیوں پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن صورتحال سکنڈوں میں قابو سے باہر ہو گئی۔

واقعے کے بعد خاتون کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے کشال نگر کے سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

Dubare Elephant Camp میں روزانہ ہزاروں سیاح آتے ہیں۔ اس المناک حادثے نے کیمپ میں سیاحوں کی حفاظت، ہاتھیوں کے ساتھ سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی انتظامات اور ہجوم کے انتظام (Crowd Management) پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری شروع کر دی ہے۔