کرناٹک میں 20 مئی سے ریاست گیر بس ہڑتال کا خدشہ
ٹرانسپورٹ ملازمین نے ریاستی حکومت پر تنخواہوں پر نظرثانی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق ان کے دیرینہ مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملازمین یکم جنوری 2024 سے 25 فیصد تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے یکطرفہ طور پر مارچ 2025 سے صرف 12.5 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
بنگلورو: کرناٹک میں 20 مئی سے پبلک ٹرانسپورٹ کی ایک بڑی تالہ بندی کا خطرہ منڈلا رہا ہے کیوں کہ ٹرانسپورٹ ملازمین کی یونینوں نے ریاست بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے بس ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے پیر کی شام تک ان کے مطالبات حل نہ کیے تو لاکھوں مسافر راستوں میں پھنس سکتے ہیں۔
اس مجوزہ احتجاج کے باعث کرناٹک بھر میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنز کی خدمات شدید متاثر ہونے کا امکان ہے اور یونینوں نے اعلان کیا ہے کہ 19 مئی کی رات سے ہی بسوں کی آمد و رفت بند ہونا شروع ہو سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ ملازمین نے ریاستی حکومت پر تنخواہوں پر نظرثانی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق ان کے دیرینہ مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملازمین یکم جنوری 2024 سے 25 فیصد تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے یکطرفہ طور پر مارچ 2025 سے صرف 12.5 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے، یونینوں نے تنخواہ کے نئے ڈھانچے کو "ناقابل قبول” قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ای ایس ایم اے بھی نافذ کیا، تب بھی ملازمین کو ہڑتال پر جانے سے نہیں روکا جا سکے گا۔
اس تالہ بندی کو روکنے کی آخری کوشش کے طور پر، حکومت نے پیر کی سہ پہر بنگلورو میں لیبر کمشنر کے تحت یونین رہنماؤں کے ساتھ نئے سرے سے مفاہمت کی بات چیت بلائی ہے۔ تاہم، مذاکرات کے پچھلے دور کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔
تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ، ٹرانسپورٹ ملازمین 2020 میں کووڈ-19 کے دور سے زیر التواء تنخواہوں کے بقایا جات کی فوری ادائیگی پر بھی اصرار کر رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے واجب الادا رقم کے طور پر پہلی قسط کے طور پر 450 کروڑ روپے جاری کیے ہیں، لیکن یونینیں مرحلہ وار ادائیگی کے بجائے ایک ہی بار میں مکمل ادائیگی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ٹرانسپورٹ رہنما وجے بھاسکر نے کہا کہ ہڑتال کا فیصلہ پیر کی بات چیت کے بعد کیا جائے گا اور انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے مثبت جواب نہ دیا تو ملازمین احتجاج کے لیے تیار ہیں۔
متعدد ملازمین نے بڑھتی ہوئی مالی مشکلات اور ادائیگیوں میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی خدمات میں خلل نہیں ڈالنا چاہتے، لیکن انہیں احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو بدھ سے کرناٹک کی سڑکوں سے ہزاروں سرکاری بسیں غائب ہو سکتی ہیں، جس سے بنگلورو اور ریاست کے دیگر حصوں میں بڑے پیمانے پر نظامِ زندگی درہم برہم ہو سکتا ہے۔