قومی

طلبا کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری بھی لیں: پرینکا گاندھی

کانگریس قائد پرینکاگاندھی وڈرا نے طلبا کے احتجاج پر پولیس کی کارروائی کے سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ”مریخ پر جانے“ کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں تو پھر انہیں اپنے اقدامات کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) کانگریس قائد پرینکاگاندھی وڈرا نے طلبا کے احتجاج پر پولیس کی کارروائی کے سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ”مریخ پر جانے“ کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں تو پھر انہیں اپنے اقدامات کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے۔

پارلیمنٹ ہاؤز کامپلکس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں بچوں کی بے حد فکر ہے لیکن کل رات طلبا پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو اور حکمراں جماعت کے ارکان ِ پارلیمنٹ‘ایوان سے باہر نکل کر احتجاج کریں جبکہ حکومت ایوان چلانے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کمزور ثابت ہورہے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے انٹرنیٹ بند کئے جانے کی اطلاعات پر کہا کہ کیا ہم واقعی جمہوریت میں رہ رہے ہیں۔ احتجاج ہورہا ہے تو انٹرنیٹ کیوں بند کیا جارہا ہے۔ طلبا دہشت گرد نہیں ہیں۔ ان کے والدین پریشان ہوں گے۔ وہ اپنے بچوں سے رابطہ بھی نہیں کرسکیں گے۔

طلبا پر آنسوگیس کے شل برسائے جارہے ہیں اور انہیں ماراپیٹا جارہا ہے۔ اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر یہ انتہائی افسوسناک صورتِ حال ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم ہر کامیابی کا سہرا اپنے سر لیتے ہیں چاہے وہ نوجوانوں کی کامیابی ہو یا ملک کی۔

اگر وہ مریخ مشن‘ اولمپکس یا ایشین گیمس میں ہندوستان کی کامیابی کا کریڈٹ لیتے ہیں تو پھر آج ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ داری بھی انہیں قبول کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے دور میں 152 پرچہ سوالات کے افشاء کے واقعات پیش آئے ہیں لیکن کسی ایک معاملہ میں بھی سزا نہیں دی گئی ہے۔