دہلی

تیجسوی یادو کیخلاف دائر ہتک عزت کا مقدمہ سپریم کورٹ نے منسوخ کردیا

سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں یادو نے احمد آباد کی عدالت میں زیر التواء مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت کو گجرات سے باہر دہلی یا کسی دوسری ریاست میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر اور بہار کے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو کے خلاف ان کے متنازعہ تبصرہ کے حوالے سے احمد آباد کی ایک عدالت میں دائر ہتک عزت کا مقدمہ معافی مانگنے کے ساتھ ہی اپنا بیان واپس لینے کے بعد پیر کو منسوخ کر دیا۔

متعلقہ خبریں
فٹبالر کریم بنزیما نے فرانس کے وزیر داخلہ کے خلاف ہتک عزت کا کیس کردیا
ری نیمنگ کمیشن قائم کرنے کی درخواست سپریم کورٹ میں خارج
سپریم کورٹ کا تلنگانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کو چالینج کردہ عرضی پر سماعت سے اتفاق
بہار میں این ڈی اے کے واحد مسلم رکن پارلیمنٹ محبوب علی قیصر، آر جے ڈی میں شامل
عصمت دری کے ملزم تھانہ انچارج کی ضمانت منسوخ

جسٹس ابھے ایس اوکا اورجسٹس اجل بھوئیاں کی بنچ نے معاملے میں آر جے ڈی لیڈر کے معافی نامہ کو قبول کرنے کے بعد انہیں راحت فراہم کی۔ یادو نے گزشتہ سال مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ صرف گجراتی ہی ٹھگ ہو سکتے ہیں۔

 اس کے بعد گجرات کے احمد آباد کے رہنے والے تاجر ہریش مہتا نے عدالت میں ان کے خلاف ہتک عزت کی شکایت درج کرائی تھی۔ مبینہ طور پر مجرمانہ ہتک عزت کے لئے مسٹر یادو کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت شکایت درج کی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ماہ شکایت کنندہ سے پوچھا تھا کہ جب یادو نے اپنا تبصرہ واپس لے لیا ہے تو ہتک عزت کا مقدمہ کیوں جاری رکھا جائے۔

سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں مسٹر یادو نے احمد آباد کی عدالت میں زیر التواء مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت کو گجرات سے باہر دہلی یا کسی دوسری ریاست میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تب سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اختیارات استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

گجرات کی ایک عدالت نے گزشتہ سال اگست میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 202 کے تحت مسٹر یادو کے خلاف ابتدائی تفتیش کی اور کہا تھا کہ مسٹر مہتا کی طرف سے دائر شکایت پر انہیں طلب کرنے کے لئے کافی بنیادیں ہیں۔

مہتا نے دعویٰ کیا تھا کہ مسٹر یادو نے گزشتہ سال مارچ میں پٹنہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’’موجودہ حالات میں صرف گجراتی ہی ٹھگ ہوسکتے ہیں اور ان کی دھوکہ دہی کو معاف کردیا جائے گا۔‘‘