بین الاقوامی

’پوری دنیا مل کر بھی آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکتی‘

ایران آبنائے ہرمز بند تو کر سکتا ہے، مگر پوری دنیا بھی جمع ہو جائے تو اسے دوبارہ نہیں کھول سکے گی۔ کسی بھی جہاز کو اس تنگ گزرگاہ سے گزرنے اور مڑنے میں 7 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں، جس دوران وہ مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہوتا ہے۔

تہران: ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضاعی نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کنٹرول کے حوالے سے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کو خبردار کر دیا ہے۔ایک حالیہ انٹرویو میں محسن رضاعی نے واضح کیا کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ
بحرین نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو حراست میں لیا

ایران آبنائے ہرمز بند تو کر سکتا ہے، مگر پوری دنیا بھی جمع ہو جائے تو اسے دوبارہ نہیں کھول سکے گی۔ کسی بھی جہاز کو اس تنگ گزرگاہ سے گزرنے اور مڑنے میں 7 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں، جس دوران وہ مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہوتا ہے۔ ایران کا جغرافیائی محل وقوع اسے اس راستے پر مستقل بالادستی فراہم کرتا ہے۔

ایک طرف جہاں عسکری قیادت سخت لہجہ اپنائے ہوئے ہے، وہیں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے مفاہمت کا پیغام دیا ہے۔

"ایرانی عوام امریکہ، یورپ یا اپنے پڑوسیوں سمیت کسی بھی قوم کے خلاف دشمنی کے جذبات نہیں رکھتے۔ ہم نے کبھی کسی جنگ میں پہل نہیں کی، بلکہ ہمیشہ حملوں کا حوصلے سے جواب دیا ہے۔

ایران امریکی شہریوں سے کوئی بیرونی دشمنی نہیں رکھتا۔ ایران کو عالمی امن کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اس نے صرف اپنی خود مختاری کے دفاع میں اقدامات اٹھائے ہیں۔