ویڈیو: سر میں ہتھیار گھونپے ہوئے مریض کے علاج میں تاخیر، کیا سرکاری اسپتالوں میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں؟
متاثرہ شخص کے اہل خانہ نے اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا لیکن اسے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
ممبئی: سائن اسپتال کی سنگین لاپرواہی، سر میں چھرا (کوئتا) پیوست ہونے کے باوجود مریض تڑپتا رہا
ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) کے زیر انتظام چلنے والے سائن اسپتال سے انسانیت کو شرما دینے والا ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک مریض جس کے سر میں تیز دھار دار ہتھیار (کوئتا) پیوست تھا، گھنٹوں ٹراما آئی سی یو (Trauma ICU) کے باہر علاج کے لیے انتظار کرتا رہا لیکن اسپتال انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے اسپتال انتظامیہ کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص انتہائی تشویشناک حالت میں کھڑا ہے اور اس کے سر میں ایک بڑا چھرا پیوست ہے۔ اس قدر سنگین صورتحال کے باوجود اسے فوری طور پر ایمرجنسی وارڈ یا آئی سی یو میں داخل نہیں کیا گیا۔
متاثرہ شخص کے اہل خانہ نے اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا لیکن اسے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
گھنٹوں انتظار کروانے سے مریض کی جان کو مزید خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔اسپتال کا رویہ غیر انسانی اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔
ویڈیو وائرل ہونے اور اسپتال میں ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس اور اعلیٰ حکام حرکت میں آئے۔ دباؤ بڑھنے پر مریض کو فوری طور پر آئی سی یو میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم اب اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ مذکورہ شخص پر حملہ کس نے کیا اور کن حالات میں اس کے سر میں یہ ہتھیار گھونپا گیا۔ ابھی تک حملے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔