یونیورسٹی ہاسٹل میں طالبہ پر وحشیانہ تشدد، لڑکی کو گھیر کر تھپڑوں کی بارش، ویڈیو وائرل
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکی، جس کی شناخت 'انوشکا' کے نام سے ہوئی ہے، کو ہاسٹل کے ایک کمرہ میں طالبات کے ایک گروپ نے گھیر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع والدین کے بارے میں مبینہ نازیبا الفاظ ادا کرنے پر شروع ہوا۔
نوئیڈا: دہلی سے متصل نوئیڈا کی مشہور بینیٹ یونیورسٹی (Bennett University) کے ہاسٹل میں طالبات کے درمیان ہونے والے جھگڑے اور تشدد کی ایک افسوسناک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو نے تعلیمی اداروں میں طالبات کی حفاظت اور غنڈہ گردی (Bullying) کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکی، جس کی شناخت ‘انوشکا’ کے نام سے ہوئی ہے، کو ہاسٹل کے ایک کمرہ میں طالبات کے ایک گروپ نے گھیر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع والدین کے بارے میں مبینہ نازیبا الفاظ ادا کرنے پر شروع ہوا۔
ویڈیو میں طالبات کو انتہائی جارحانہ انداز میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ایک طالبہ انوشکا سے کہتی ہے:
"اب تو سب کو سوری بولے گی… ایک سوری، ایک خوراک (تھپڑ)، ٹھیک ہے؟”
ویڈیو کے مناظر انتہائی دل دہلا دینے والے ہیں جہاں انوشکا معافی مانگنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن دوسری طالبات اسے مسلسل ہراساں کرتی ہیں۔ ایک لڑکی کہتی ہے کہ اسے تب تک نہیں چھوڑا جائے گا جب تک وہ رو نہ پڑے۔
جب متاثرہ طالبہ تکلیف سے چلاتی ہے کہ اسے خون نکل رہا ہے، تو گروپ میں شامل دوسری لڑکیاں مذاق اڑاتے ہوئے کہتی ہیں کہ "ہمیں تو کچھ نظر نہیں آ رہا”۔
اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ صارفین نے اسے صرف ایک معمولی جھگڑا نہیں بلکہ ‘اوپن ہراسمنٹ’ اور ‘مار پیٹ’ قرار دیا ہے۔
لوگوں کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرے اور ملوث طالبات کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
ابھی تک بینیٹ یونیورسٹی کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ ملوث طالبات کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔