سوشیل میڈیاقومی
ٹرینڈنگ

خاتون کو تھپڑ مارنے والے اے ڈی سی پی سندیپ لامبا کون ہیں؟

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دہلی پولیس نے سندیپ لامبا کو جنتر منتر احتجاج کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں ان کی اصل تعیناتی پر واپس بھیج دیا گیا ہے، تاہم دہلی پولیس نے اس حوالہ سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران ایک خاتون کو مبینہ طور پر تھپڑ مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دہلی پولیس کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس سندیپ لامبا خبروں میں آ گئے ہیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں جنتر منتر پر تعینات ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے، جہاں عدالت نے پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔

سندیپ لامبا کون ہیں؟

سندیپ لامبا دہلی، انڈمان و نکوبار آئی لینڈز پولیس سروس (DANIPS) کے افسر ہیں۔ وہ اس وقت دہلی پولیس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ADCP) کے عہدہ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واقعہ کے وقت وہ شمال مشرقی ضلع (نارتھ ایسٹ ڈسٹرکٹ) میں اے ڈی سی پی کے طور پر تعینات تھے۔ وہ دہلی پولیس میں مختلف اہم اور حساس ذمہ داریوں پر کام کر چکے ہیں۔

تنازعہ کیسے شروع ہوا؟

یہ معاملہ 20 جولائی کو اس وقت سامنے آیا جب CJP (کاکروچ جنتا پارٹی) کے زیر اہتمام "سنسد چلو مارچ” جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب نکالا گیا۔ مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوگئی، جس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اسی دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر اے ڈی سی پی سندیپ لامبا ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی کو تھپڑ مارتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اس واقعے پر شدید تنقید شروع ہوگئی۔

ڈیوٹی سے ہٹایا گیا، مگر باضابطہ بیان نہیں

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دہلی پولیس نے سندیپ لامبا کو جنتر منتر احتجاج کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں ان کی اصل تعیناتی پر واپس بھیج دیا گیا ہے، تاہم دہلی پولیس نے اس حوالہ سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

معاملہ دہلی ہائی کورٹ پہنچ گیا

یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے عدالت کی توجہ وائرل ویڈیو کی جانب دلائی اور مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو میں ایک سینئر پولیس افسر بغیر کسی اشتعال کے ایک خاتون کو تھپڑ مارتے دکھائی دے رہے ہیں۔

عدالت نے دہلی پولیس سے جواب طلب کرتے ہوئے واقعہ سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ویڈیو ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

احتجاج کے دوران کیا ہوا تھا؟

20 جولائی کو ہونے والے "سنسد چلو مارچ” میں بڑی تعداد میں مظاہرین پارلیمنٹ کی جانب بڑھ رہے تھے، جنہیں پولیس نے روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بعد ازاں پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات بھی لگے، جن کے خلاف ہائی کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

RAF اہلکاروں پر حملے کا مقدمہ بھی درج

اسی احتجاج سے متعلق ایک اور معاملہ بھی سامنے آیا۔ دہلی پولیس کے مطابق منگل کی رات تقریباً 10 بجے ٹالسٹائے مارگ اور پارلیمنٹ مارگ کے چوراہے پر ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے دو اہلکاروں پر بھیڑ نے حملہ کر دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل 35 سیکنڈ کی ویڈیو میں ایک اہلکار سڑک پر گرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے بعد چند افراد مبینہ طور پر اسے لاتوں اور گھونسوں سے مارتے ہیں۔ بعد میں دیگر سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچے اور دونوں زخمی اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ دونوں اہلکاروں کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

سندیپ لامبا کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی؟

فی الحال سندیپ لامبا کو صرف جنتر منتر احتجاج کی ڈیوٹی سے ہٹایا گیا ہے اور انہیں ان کی سابقہ تعیناتی پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف کسی تادیبی کارروائی کے بارے میں دہلی پولیس کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔

اب اس معاملے میں سب کی نظریں دہلی ہائی کورٹ کی کارروائی اور پولیس کی تحقیقات پر ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ اس معاملے میں آئندہ کیا کارروائی کی جائے گی۔