دہلی

دہلی میں منعقدہ نمائش میں ’تاریخ خاندان تیموریہ‘ کا قلمی نسخہ بھی شامل

گذشتہ ہفتہ یہاں پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل لائبریری کی انتہائی کمیاب اور قیمتی کتابوں کی نمائش میں باوقار قلمی نسخہ ”تاریخ خاندان تیموریہ“ بھی شامل تھا۔

نئی دہلی: گذشتہ ہفتہ یہاں پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل لائبریری کی انتہائی کمیاب اور قیمتی کتابوں کی نمائش میں باوقار قلمی نسخہ ”تاریخ خاندان تیموریہ“ بھی شامل تھا۔

یہ نمائش انڈیا انٹرنیشنل سنٹرل کی جانب سے منعقدہ ڈی آئی آئی سی اکسپریٹس کا ایک حصہ تھی، جس میں فوٹو گرافی (تصویر کشی) لوک مصوری، رقص، موسیقی اور ڈرامہ نگاری اور بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ فلموں کی نمائش بھی شامل تھی۔

نمائش کے لیے خدابخش لائبریری کے خزانے سے پیش کردہ اشیاء میں قدیم قلمی مسودے، محافظ خانے میں محفوظ مخطوطات کی تصاویر کمیاب کتابوں کی نقولات، ڈیجیٹل طریقہ سے محفوظ کردہ باتصویر قلمی مواد اور پٹنہ کی شہرت یافتہ لائبریری کے ذخائر کی نقولات شامل تھے۔

ان میں ”تاریخ خاندان تیموریہ“ کا قلمی نسخہ شامل ہے، جو مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور میں تحریر کیا گیا تھا۔ یہی ایک واحد دستیاب نقل ہے جو مغل حکمراں بابر ہمایوں اور اکبر کے بشمول تیمور اور اس کی نسل جو ایران اور ہندوستان میں حکومت کیے کی تاریخ ہے۔

لائبریری کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شائستہ بدر نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ خاندان تیمور کی تاریخ ہے جو اکبر کے دور تک احاطہ کی ہے۔ اس تحریری مواد اور اکبر کے دربار کے مصوروں کی تصاویر بھی ہیں۔ 60 تا 70 مصوروں کی 100 سے زیادہ تصاویر اس میں شامل ہیں۔

اسے شاہی خاندان کی نقل ہونے کی سند مغل شہنشاہ شاہجہاں کے ہاتھ کی تحریر کتاب کے آغاز میں تحریر ہے۔ اس تحریر کا مختصر ترجمہ یوں ہے: یہ حضرت صاحب ِ قرآن (تیمور) اور ان کے عظیم جانشینوں کے مختصر واقعات ہیں اور حضرت عرش آشیانی کی 20 سالہ حکمرانی کی تاریخ حضرت شاہ بابا (اکبر) کے دور میں تحریر کردہ ہے۔ اسے ”تیمور نامہ“ بھی کہا جاتا ہے۔

a3w
a3w