میڈیکل کالج میں طلبہ کے دو گروہوں میں جھڑپ

ایک چونکا دینے والے واقعہ میں کرناٹک کے رائچور شہر کے مضافات میں واقع میڈیکل کالج میں منگل کو پیرا میڈیکل طلبہ کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا۔

رائچور: ایک چونکا دینے والے واقعہ میں کرناٹک کے رائچور شہر کے مضافات میں واقع میڈیکل کالج میں منگل کو پیرا میڈیکل طلبہ کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ، طلبہ کے درمیان سوشل میڈیا پوسٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے پیش آیا۔ پولیس نے بتایا کہ رائچور کے مضافات میں واقع نوودیا میڈیکل کالج کے طلبہ نے تشدد کیا۔

پولیس نے مزید کہا کہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے آہنی سلاخوں کا استعمال کیا گیا جس میں میڈیکل کے دو طالب علم زخمی ہوئے۔ ایک طالب علم کے سر پر شدید چوٹ آئی اور اسے 12 ٹانکے لگے۔ ایک اور طالب علم کے ماتھے پر چوٹیں آئیں۔زخمی طلباء کی شناخت شنکر اور شمبھولنگا کے طورپر ہوئی ہے۔

زخمیوں کا نوودیا ہسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔ حملہ آور کی شناخت روہت کے طورپر کی گئی ہے جو بی ایس سی نرسنگ کورس کا طالب علم ہے۔

پولیس نے کہا کہ شنکر اور شمبھولنگا نے روہت کے موبائل اسٹیٹس کا اسکرین شاٹ لیا تھا۔ روہت نے اپنی سالگرہ منانے اپنی ماں کی تصویر اپنے اسٹیٹس میں لگائی تھی۔ شنکر اور شمبھولنگا نے مبینہ طورپر اس تصویر کو ایڈٹ کیا اور اس میں محبت کی علامتیں شامل کی تھیں اور اسے کیمپس میں وائرل کر دیا۔

اس پر روہت اور اس کے دوست مشتعل ہو گئے اور دونوں پر حملہ کر دیا جو گینگ وار میں تبدیل ہو گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تشدد پروفیسروں کے سامنے ہوا اور اس واقعہ میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ نیتاج نگر پولیس موقع پر پہنچی اور معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔