مہاراشٹرا

مہاراشٹرا کے وزیر آبکاری کی دھمکی پر نیا سیاسی تنازعہ

مہاراشٹرا کے ایک وزیر کی اس دھمکی پر تازہ سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے کہ گوا سے صرف ایک بوتل شراب لانے والوں پر بھی خطرناک مکوکا قانون لگادیا جائے۔

ممبئی: مہاراشٹرا کے ایک وزیر کی اس دھمکی پر تازہ سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے کہ گوا سے صرف ایک بوتل شراب لانے والوں پر بھی خطرناک مکوکا قانون لگادیا جائے۔

اپوزیشن جماعتوں نے ممبئی میں منگل کے دن الزام عائد کیا کہ یہ جبری وصولی کا نیا انداز ہے۔

وزیر آبکاری شمبھو راج دیسائی نے جو دھمکی دی ہے اس کا مقصد گوا سے مہاراشٹرا میں سستی دیسی ساختہ بیرونی شراب (آئی ایم ایف ایل) کی اسمگلنگ روکنا ہے۔

سیاح یا عام آدمی کو یہ بات اچھی نہیں لگی جو ذاتی استعمال کے لئے چند بوتلیں خریدتا ہے۔ دیسائی نے اضلاع سندھودرگ اور کولہاپور کو جو گوا کی سرحد سے متصل ہیں‘ ہدایت دی کہ اسمگلروں کے خلاف حکمت عملی وضع کریں اور ان پر مہاراشٹرا منظم جرائم کنٹرول قانون(مکوکا) لگادیں۔

یہ قانون‘ جرائم پیشہ سرغنوں یا سنگین جرائم پر لگتا ہے۔ ریاستی آبکاری حکام 2 ساحلی ریاستوں کے درمیان انٹری۔ اکزٹ پوائنٹس پر موبائل چیک پوسٹس قائم کریں گے۔ پولیس اور محکمہ آبکاری کی جاریہ مہم کو اس سے تقویت ملے گی۔

کانگریس جنرل سکریٹری سچن ساونت نے تنقید کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا کوئی اور قانون نہیں ہے؟ انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ آیا سیاحوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا یا مہاراشٹرا میں اترپردیش ماڈل پر عمل ہورہا ہے۔

حکومت پر طنز کرتے ہوئے شیوسینا ترجمان منیشا کاینڈے نے کہا کہ صرف ایک بوتل شراب کے لئے حکومت مکوکا لگادے گی لیکن گوا سے ایک رکن اسمبلی لانے پر 50 کھوکھا (50 کروڑ روپے) انعام ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ریاست میں سیاحت متاثر ہوگی۔ ممبئی میں شراب بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ مہاراشٹرا میں گوا کے مقابلہ آئی ایم ایف ایل برانڈس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ فرق 250 تا 300 فیصد کا ہے۔

آبکاری ڈیوٹی اور مقامی ٹیکسس اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ممبئی میں بار چلانے والے کمار اے شیٹی نے کہا کہ مثال کے طورپر مہاراشٹرا میں آئی ایم ایف ایل کی جو چھوٹی بوتل 300 روپے میں ملتی ہے وہ گوا میں صرف 100 روپے میں مل جاتی ہے۔