علامہ اقبال کے اقوال زریں آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل: مفتی سید آصف الدین ندوی
شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی فکر و شاعری آج بھی ملتِ اسلامیہ کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کے اقوال آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی، بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز قادر باغ، حیدرآباد نے جامع مسجد عالیہ گن فاؤنڈری کے کانفرنس ہال میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حیدرآباد: شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی فکر و شاعری آج بھی ملتِ اسلامیہ کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کے اقوال آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی، بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک اسٹڈیز قادر باغ، حیدرآباد نے جامع مسجد عالیہ گن فاؤنڈری کے کانفرنس ہال میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ تقریب جناب انعام احمد، موظف اسسٹنٹ رجسٹرار عثمانیہ یونیورسٹی کی مرتب کردہ کتاب ’’علامہ اقبال کے اقوال زریں، کڑوے مگر سچے‘‘ کی رسمِ اجرا کے سلسلے میں بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔
مفتی سید آصف الدین ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری ساحرانہ تاثیر رکھتی ہے اور ان کی فکر قرآن مجید، احادیث نبویہؐ اور تاریخ اسلام سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال فکر و نظر کے امام تھے اور ان کا پیغام مسجدوں کے منبر و محراب سے لے کر ایوانِ اقتدار تک گونجتا رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقبال کی شاعری کو سمجھنے کے لیے علم و بصیرت درکار ہے، اسی لیے ماہرینِ ادب اور علمی اداروں نے اقبال شناسی پر وسیع پیمانے پر کام کیا ہے، تاہم اقبال کے اقوال عام فہم ہیں اور ایک عام اردو داں قاری بھی انہیں آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
مفتی صاحب نے کتاب کے مرتب جناب انعام احمد کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقبال کے اقوال کو اردو کے ساتھ رومن انگریزی میں پیش کرنا ایک قابلِ قدر قدم ہے، جس کے ذریعے غیر اردو داں طبقہ بھی علامہ اقبال کی فکر سے استفادہ کر سکے گا۔
اس موقع پر جناب انعام احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل تک علامہ اقبال کی فکر پہنچانا ان کا مقصد ہے اور یہ کوشش مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے تقریب میں شریک تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتظامی کمیٹی کے سکریٹری جناب محمد عظمت اللہ صدیقی نے کتاب کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ مرتب کی عمر اور کمزوری کے باوجود ان کی علمی وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب مقصد عظیم ہو تو عمر کی کوئی قید باقی نہیں رہتی۔
جلسے کا آغاز حافظ عبد الرحمن، امام مسجد عالیہ کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جبکہ اس موقع پر ڈاکٹر حبیب اشرف، افتخار حسین، ڈاکٹر مصطفیٰ صدیقی، محمد طاہر علی، محمد شبیر، محمد ضیاء الدین محمود، محمد صادق علی، شمس الدین، مظہر عابدی، مسیح الدین، یونس خان، نصر اللہ خان اور محمد فیض الدین سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء میں کتاب بطور تحفہ پیش کی گئی۔ کتاب حاصل کرنے کے خواہشمند افراد 9052892115 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ آخر میں مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی کی دعا پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔