حیدرآباد

جماعت اسلامی ہند ریاست نگر کے زیر اہتمام ’’جلسہ سیرت حضرت سیدنا ابراہیمؑ‘‘ منعقد

جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور اپنے ابراہیمؑ کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی ایمان و استقامت کا عملی نمونہ تھی اور قرآن مجید نے انہیں ایک امت قرار دیا کیونکہ انہوں نے تنہا باطل نظام کے خلاف توحید کی آواز بلند کی۔

حیدرآباد: جماعت اسلامی ہند ریاست نگر، حیدرآباد کے زیر اہتمام ’’جلسہ سیرت حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام‘‘ اتوار 17 مئی 2026 کو شکور کنونشن ٹاور، معین باغ، حیدرآباد میں منعقد ہوا، جس میں مقررین نے حضرت ابراہیمؑ کی سیرت، جذبۂ ایمانی، قربانی، استقامت اور توحید کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس
نعتیہ کلام دلوں کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کرتا ہے: سعداللہ خان سبیل

جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور اپنے ابراہیمؑ کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی ایمان و استقامت کا عملی نمونہ تھی اور قرآن مجید نے انہیں ایک امت قرار دیا کیونکہ انہوں نے تنہا باطل نظام کے خلاف توحید کی آواز بلند کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا مادہ پرستی اور بے دینی کی طرف بڑھ رہی ہے، ایسے میں امت مسلمہ کو حضرت ابراہیمؑ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے ایمان کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر زور دیتے ہوئے گھروں کو قرآن اور ایمان سے جوڑنے کی ضرورت بیان کی۔

مولانا مفتی محمد عبدالکبیر قریشی نے ’’آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ نے شرک اور باطل کے ماحول میں توحید کا علم بلند کیا اور ہر آزمائش میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امت مسلمہ میں دوبارہ وہی ایمانی کیفیت پیدا ہوجائے تو ناممکن حالات بھی بدل سکتے ہیں۔

جناب ابو ولید محمد خالد عبدالرحمن نے اپنے خطاب میں حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری، والدین کی تربیت اور صالح اولاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ والدین اور اولاد دونوں کے لیے اطاعت، ادب اور قربانی کا عظیم درس ہے۔

پروگرام کا آغاز جناب محمد امجد خان کے تذکیر بالقرآن سے ہوا جبکہ حمد باری تعالیٰ حافظ مرزا عبد الکریم بیگ نے پیش کی۔ افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے جناب محمد حسام الدین متین، امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ریاست نگر نے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ کی سیرت رہتی دنیا تک ایمان، اخلاص اور اللہ پر کامل بھروسہ کی عظیم مثال ہے۔

اس موقع پر برادر حسن البناء، برادر محمد ابوبکر خان اور ماسٹر عبدالعزیز نے ترانہ پیش کیا جس نے سامعین میں روحانی جذبہ تازہ کردیا۔

مقررین نے حضرت ابراہیمؑ کے نمرود کے ساتھ مکالمہ، آگ میں ڈالے جانے، ہجرت، خانہ کعبہ کی تعمیر اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی جیسے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دی جانے والی قربانیاں ہی انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہیں۔

جلسہ کے کنوینر جناب مرزا ضیاء الدین بیگ کاظم تھے جبکہ انتظامات کی نگرانی سید عبداللہ ہاشمی طلحہ، مرزا عبدالعظیم بیگ، محمد معز الدین اور محمد یوسف احمد لقمان سمیت دیگر ذمہ داران نے انجام دی۔