سوشیل میڈیاقومی
ٹرینڈنگ

آوارہ کتے کے ساتھ بدفعلی، ویڈیو وائرل ہونے پر مشتعل ہجوم نے ملزم کی پٹائی کر دی

خاتون کارکن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملزم کا رویہ مشکوک ہے اور وہ خواتین اور کمسن لڑکیوں کو بھی بہلا پھسلا کر اپنے فلیٹ پر لانے کی کوشش کرتا رہا ہے تاہم حکام کی جانب سے ابھی ان الزامات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

نئی دہلی: دہلی کے شاہدرہ علاقہ سے ایک انتہائی دل دہلا دینے والا اور شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شخص کی جانب سے آوارہ کتے کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید عوامی غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعہ کے اگلے ہی دن مقامی لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر اس پر شدید تشدد کیا اور اسے پولیس کے حوالہ کر دیا۔

متعلقہ خبریں
پلر نمبر 100 پر سنسنی خیز واقعہ، نشے میں دھت شخص تار سے لٹک گیا
حیدرآباد میں دل دہلا دینے والا واقعہ: چھ ماہ بعد کنویں سے خاتون کی لاش برآمد
یوٹیوبر بیوی نے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کا قتل کر دیا، سی سی ٹی وی فوٹیج نے پول کھول دی

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی معروف کارکن رینو کور نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں رات کے اندھیرے میں ایک شخص کو آوارہ کتے کے ساتھ بدفعلی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ رینو کور کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سڑکیں سنسان تھیں اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ شخص اس سے پہلے بھی اس طرح کی گھناؤنی حرکات میں ملوث رہا ہے۔

خاتون کارکن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملزم کا رویہ مشکوک ہے اور وہ خواتین اور کمسن لڑکیوں کو بھی بہلا پھسلا کر اپنے فلیٹ پر لانے کی کوشش کرتا رہا ہے تاہم حکام کی جانب سے ابھی ان الزامات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتے ہی مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ اگلے ہی روز ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں مشتعل ہجوم کو ملزم کا گھیراؤ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ عوام نے ملزم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، اسے گلیوں میں گھمایا اور بعد میں پولیس کے حوالہ کر دیا۔

این جی او کارکن رینو کور نے تصدیق کی ہے کہ ملزم کے خلاف پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرا دی گئی ہے اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

اس واقعہ نے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں ایک طرف صارفین جانور پر ہونے والے اس ظلم پر سخت برہم ہیں اور ملزم کے لیے کڑی سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہاں دوسری طرف کچھ صارفین نے "عوامی انصاف” (Mob Justice) اور قانون کو ہاتھ میں لینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، قانون ہاتھ میں لینے اور سرعام تشدد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کسی بھی مجرم کو سزا دینے کا حق صرف عدالتوں کو ہے۔

پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور جلد ہی اس حوالے سے باقاعدہ چارج شیٹ جاری کیے جانے کی امید ہے۔