قومی

کلاس روم میں معصوم بچوں پر وحشیانہ تشدد، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر ’درندہ صفت‘ استاد عارف الاسلام گرفتار (ویڈیو)

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ استاد نہ صرف بچوں کو مار رہا ہے، بلکہ ایک موقع پر اس نے ایک معصوم بچے کو کھڑکی سے باہر دھکیلنے کی بھی کوشش کی۔

چرائی دیو (آسام): ریاست آسام کے ضلع چرائی دیو کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں استاد کی جانب سے معصوم بچوں پر وحشیانہ تشدد کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج منظرِ عام پر آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم استاد کو گرفتار کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں
آئیے ،ہم مل کر اپنی ناری شکتی کو بااختیار بنائیں!
کیا یہ انسان ہی ہے؟ پانچ کتے کے بچوں کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتاردیا (دل دہلادینے والی ویڈیو وائرل)
یوٹیوبر بیوی نے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کا قتل کر دیا، سی سی ٹی وی فوٹیج نے پول کھول دی
آسام کے اسمبلی حلقہ سماگوڑی میں بی جے پی اور کانگریس ورکرس میں ٹکراؤ
شہریت ترمیمی قانون اصل باشندوں پر اثرانداز نہیں ہوگا :سونووال

یہ واقعہ ‘متھرا پور باغیچہ پرائمری اسکول’ میں پیش آیا۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے جب کلاس روم کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز چیک کیں، تو وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ ایک استاد بچوں کو بے رحمی سے پیٹ رہا ہے۔

گرفتار استاد کی شناخت 51 سالہ محمد عارف الاسلام کے نام سے ہوئی ہے، جو متھرا پور تنیالی کا رہائشی ہے۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ استاد نہ صرف بچوں کو مار رہا ہے، بلکہ ایک موقع پر اس نے ایک معصوم بچے کو کھڑکی سے باہر دھکیلنے کی بھی کوشش کی۔

مقامی ذرائع اور والدین کا الزام ہے کہ مذکورہ استاد بچوں سے کلاس کے دوران زبردستی اپنی مالش (Massage) بھی کرواتا تھا۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی والدین اور مقامی شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مشتعل والدین نے اسکول کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا اور استاد کی فوری معطلی اور سخت سزا کا مطالبہ کیا۔

آسام ٹی ٹرائب اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (ATTSA) نے بھی اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے ضلعی حکام کو ایک یادداشت پیش کی ہے، جس میں اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسکول انتظامیہ اور اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے صدر نے 5 مئی کو ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز کے پاس تحریری شکایت درج کروائی۔

بلاک ایجوکیشن آفیسر کو واقعے کی تفصیلی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

پولیس نے عوامی دباؤ اور ویڈیو شواہد کی بنیاد پر محمد عارف الاسلام کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف بچوں کے تحفظ اور تشدد سے متعلق سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طلبہ، والدین اور اسکول کے دیگر عملے کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں تاکہ کیس کے انجام تک پہنچایا جا سکے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں کارپورل پنشنمنٹ (جسمانی سزا) کے خاتمے اور بچوں کی حفاظت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔