یونیورسٹی میں خونخوار گلہری کی دہشت، 20 سے زائد طلبہ زخمی، آخر اس ننھی جان کو اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے؟ (ویڈیو)
فی الحال یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ قدرت کا یہ چھوٹا سا جاندار ہمیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ اپنی زمین اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ایک ننھی گلہری بھی کسی شیر سے کم نہیں ہوتی۔
نئی دہلی: کہتے ہیں کہ ڈر ہمیشہ بڑی چیزوں سے نہیں لگتا، کبھی کبھی ایک ننھی سی جان بھی بڑے بڑوں کے پسینے چھڑا دیتی ہے۔ راجستھان کے شہر ادے پور کی ‘موہن لال سکھاڑیہ یونیورسٹی’ میں ان دنوں پڑھائی سے زیادہ ایک ‘خطرناک’ گلہری کے چرچے ہیں۔
یونیورسٹی کے آرٹس کالج میں واقع سائیکالوجی ڈپارٹمنٹ کے باہر اس گلہری نے وہ کہرام مچایا ہے کہ لوگ وہاں سے گزرنے میں بھی کترانے لگے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران اس ‘غصیل’ گلہری نے تقریباً 20 افراد کو اپنا شکار بنایا ہے۔ حد تو تب ہوگئی جب کالج کے ڈین صاحب بھی اس کے تیز دانتوں کا نشانہ بن گئے۔
عملے کا کہنا ہے کہ یہ گلہری کسی خاموش شکاری کی طرح حملہ کرتی ہے۔ جیسے ہی کوئی اس کے درخت کے قریب سے گزرتا ہے، یہ بجلی کی سی تیزی سے جھپٹتی ہے، کاٹتی ہے اور دوبارہ شاخوں میں چھپ جاتی ہے۔ اسے پکڑنے کے لیے محکمہ جنگلات کی ٹیم نے دو بار پنجرے بھی لگائے، لیکن یہ ‘شاطر کھلاڑی’ ہر بار چکما دے کر نکل گئی۔ اب عالم یہ ہے کہ لوگ یہاں سے گزرتے وقت ہاتھوں میں لاٹھیاں رکھنے پر مجبور ہیں۔
آخر اس ننھی جان کو اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اپنی ‘ٹیریٹری’ یعنی علاقے کی حفاظت کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہاں اس کا گھونسلہ ہو اور وہ اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے فکرمند ہو۔ محکمہ حیوانات کے مطابق، گلہری کے کاٹنے سے ریبیز کا خطرہ تو نہیں ہوتا، لیکن ٹیٹنس (Tetanus) کا انجکشن لگوانا ضروری ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض اوقات بینائی کی کمی یا خاص رنگوں سے چڑ کی وجہ سے بھی جانور جارحانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔
فی الحال یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ قدرت کا یہ چھوٹا سا جاندار ہمیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ اپنی زمین اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ایک ننھی گلہری بھی کسی شیر سے کم نہیں ہوتی۔