دہلی

تہاڑجیل میں کجریوال کو ہلاک کرنے کی سازش:سوربھ بھاردواج

تہاڑجیل انتظامیہ نے بھاردواج کے اس الزام پر اپنے جواب میں کہا کہ ایمس کے سینئر خصوصی معالجین نے ہفتہ کے دن ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ کجریوال کو کنسلٹیشن دیا۔

نئی دہلی: جیل میں بند چیف منسٹر دہلی اروندکجریوال کی صحت پر تنازعہ کے بیچ عام آدمی پارٹی نے اتوار کے دن الزام عائد کیاکہ جیل میں چیف منسٹر کو ہلاک کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں
جیل میں کجریوال سے دہشت گرد جیسا سلوک: بھگونت مان
کجریوال سنگین عارضہ میں مبتلا نہیں، درخواست ضمانت مسترد
لیفٹیننٹ گورنر دہلی پر اروند کجریوال کا پلٹ وار
عتیق احمد کے لڑکوں کے خلاف جبری وصولی کا کیس
کجریوال کی عبوری ضمانت میں توسیع سے عدالت کا انکار

 پریس کانفرنس سے خطاب میں عام آدمی پارٹی قائد اور دہلی کے وزیرسوربھ بھاردواج نے کہا کہ معاملہ کے دو رخ ہیں۔ گذشتہ 20 تا22 سال سے شوگر کے مریض اروندکجریوال کہہ چکے ہیں کہ وہ پچھلے 12 سال سے انسولین پر ہیں۔

دوسری طرف بی جے پی کی مرکزی حکومت اور تہاڑجیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کجریوال کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں انسولین لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بھاردواج نے کجریوال کو انسولین دینے کی سہولت نہ ہونے پر تشویش ظاہرکی۔

 انہوں نے کہاکہ ضروری ہوتو خانگی ڈاکٹرسے ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ کنسٹلیشن لیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کجریوال کو انسولین کی ضرورت ہے جو انہیں نہیں دی جارہی ہے۔ اگر آپ ڈاکٹرنہیں دے سکتے تو ویڈیوکال کے ذریعہ کجریوال کے خانگی ڈاکٹرسے کنسلٹیشن کرائیں۔

 انہوں نے بی جے پی اور تہاڑجیل انتظامیہ پرالزام عائد کیاکہ  کجریوال کے خلاف سازش ہورہی ہے۔بی جے پی نے سابق میں دعویٰ کیاتھا کہ جیل کے اندرخصوصی معالجین موجود ہیں اور انسولین کی سہولت دستیاب ہے جبکہ ہفتہ کے دن ڈائرکٹرجنرل تہاڑجیل نے آل انڈیاانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس(ایمس) کو لکھا کہ شوگر کے خصوصی معالج کا بھیجاجائے۔

 انہوں نے کہا کہ ایک جنرل فزیشین کیسے طئے کرسکتا ہے کہ کجریوال کوانسولین نہ دی جائے۔ قبل ازیں تہاڑجیل انتظامیہ نے لفیٹننٹ گورنردہلی وی کے سکسینہ کو دی گئی رپورٹ میں کہاتھا کہ گذشتہ چند سال سے انسولین پرتھے لیکن انہوں نے تلنگانہ کے ایک ڈاکٹر کے کنسٹلیشن کے بعد چند ماہ قبل انسولین لینی بند کردی تھی۔

 وہ صرف metformin لے رہے ہیں جو شوگر کی بنیادی دوا ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب دہلی کے وزیرسوربھ بھاردواج نے الزام عائدکیاکہ تہاڑجیل حکام نے اب ایمس سے شوگر کے خصوصی معالج کوطلب کیا ہے۔ کجریوال گذشتہ20 دن سے تہاڑجیل میں بند ہیں اور شوگر کے خصوصی معالج کواب بلایاجارہا ہے۔

 تہاڑجیل انتظامیہ نے بھاردواج کے اس الزام پر اپنے جواب میں کہا کہ ایمس کے سینئر خصوصی معالجین نے ہفتہ کے دن ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ کجریوال کو کنسلٹیشن دیا۔

 40 منٹ کے تفصیلی کنسلٹیشن کے بعد کجریوال کو تیقن دیاگیاکہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے اور وہ تجویز کردہ دوائیں استعمال کرتے رہیں۔ اس کنسلٹیشن کا انتظام کجریوال کی اہلیہ سنیتاکجریوال کی درخواست پر کیاگیاتھا۔ بھاردواج نے پھرکہا کہ جیل میں کجریوال کی جان لینے کی سازش ہورہی ہے۔

a3w
a3w