ملک بھر میں ایک بار پھر کووڈ۔19 کے واپسی کے آثار، بخار اور کھانسی کو معمولی نہ سمجھیں
ایسی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر کووڈ-19 ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
نئی دہلی: ملک میں ایک بار پھر کووڈ-19 کے کیسز میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے باعث ہونے والے عام بخار، نزلہ یا زکام سمجھ کر بہت سے لوگ کووڈ-19 کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر رہے ہیں، جس سے وائرس کے خاموشی سے پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو بخار، مسلسل خشک کھانسی، جسم میں شدید درد، غیر معمولی تھکن، گلے میں خراش یا درد، سونگھنے یا ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوں تو انہیں معمولی موسمی بیماری سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔
ایسی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر کووڈ-19 ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر متاثرہ شخص کو فوری طور پر خود کو دوسروں سے الگ (آئسولیشن) کر لینا چاہیے تاکہ وائرس خاندان اور معاشرے میں مزید نہ پھیل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط نہ کرنے کی صورت میں کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خاص طور پر بزرگ افراد، ذیابیطس، دمہ، سانس کی بیماریوں اور دیگر دائمی امراض میں مبتلا افراد کو زیادہ محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ ان میں کووڈ-19 کی شدت بڑھنے اور پیچیدگیوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
طبی ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بازاروں، تہواروں، میلوں، مذہبی اجتماعات اور دیگر ہجوم والی جگہوں پر جاتے وقت ماسک کا استعمال دوبارہ معمول بنائیں، ہاتھوں کی صفائی کے لیے سینیٹائزر کا استعمال کریں اور جہاں ممکن ہو جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی احتیاطی تدابیر، بروقت ٹیسٹنگ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر کے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے اہلِ خانہ اور پورے معاشرے کو بھی کووڈ-19 کے ممکنہ پھیلاؤ سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے