خاتون انفلوئنسر نے کینسر کا ڈرامہ رچا کر اپنے فالوورز سے لاکھوں روپے بٹور لئے۔ پرتعیش طرزِ زندگی نے کھول دی پول
ڈونیا (Doniaa) نامی انفلوئنسر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے جذباتی ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کیں جسے دیکھ کر مداحوں کا دل پگھل گیا
نئی دہلی: شہرت اور پیسے کی ہوس انسان کو کس حد تک گرا سکتی ہے، اس کی ایک تازہ مثال مصر سے سامنے آئی ہے۔ ایک معروف خاتون انفلوئنسر نے کینسر کا ڈرامہ رچا کر اپنے فالوورز سے لاکھوں روپے بٹور لیے، لیکن ان کی پرتعیش زندگی نے جلد ہی اس جھوٹ کا پردہ فاش کر دیا۔
ڈونیا (Doniaa) نامی انفلوئنسر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے جذباتی ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کیں جسے دیکھ کر مداحوں کا دل پگھل گیا اور انہوں نے دل کھول کر عطیات دئے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونیا نے تقریباً 4 ملین مصری پاؤنڈز (جو کہ ہندوستان میں تقریباً 71 لاکھ بنتے ہیں) جمع کر لیے۔
دھوکہ دہی کا یہ سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب ڈونیا کی اصل زندگی کی ویڈیوز سامنے آنے لگیں۔ وہ ویڈیوز میں مہنگی ترین گاڑیوں میں گھومتی نظر آئیں۔مہنگے برانڈڈ سامان کی نمائش شروع کر دی۔
فالوورز نے سوال اٹھایا کہ جو خاتون علاج کے لیے پیسے مانگ رہی تھی، اس کے پاس اچانک اتنی دولت کہاں سے آگئی؟ عوامی غم و غصے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں، جس کے نتیجے میں ڈونیا کو حکام کے سامنے سرنڈر کرنا پڑا۔
گرفتاری کے بعد ڈونیا نے فیس بک پر اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ”میں نے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کینسر کا جھوٹ بولا تھا۔ مجھے بیمار ہونے پر ملنے والی ہمدردی اچھی لگنے لگی تھی۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں طبی مدد کی ضرورت ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فراڈ کی وجہ سے اب ان لوگوں پر بھی بھروسہ کرنا مشکل ہو گیا ہے جو واقعی کسی بیماری یا ضرورت کے لیے مدد کے طالب ہوتے ہیں۔