بین الاقوامی

مغربی ایشیا میں فوری جنگ بندی ضروری، خطہ کی صورتحال نازک مرحلہ میں داخل: پوٹین۔ شی جن پنگ

چینی صدرشی جن پنگ نے چہارشنبہ کے دن مغربی ایشیا میں جنگ کے فوری خاتمہ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صورتِ حال ”نازک مرحلہ“ میں داخل ہوگئی ہے۔ انہوں نے خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ بیجنگ میں اپنے روسی ہم منصب پوٹین سے بات چیت کی۔

بیجنگ (پی ٹی آئی) چینی صدرشی جن پنگ نے چہارشنبہ کے دن مغربی ایشیا میں جنگ کے فوری خاتمہ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صورتِ حال ”نازک مرحلہ“ میں داخل ہوگئی ہے۔ انہوں نے خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ بیجنگ میں اپنے روسی ہم منصب پوٹین سے بات چیت کی۔

متعلقہ خبریں
مالدیپ کے صدر کاچین اور ہندوستان سے اظہار تشکر
تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان، سعودی عرب، تیل کی پیداوار میں کٹوتی جاری رکھے گا
ہند۔چین معاہدہ کی تفصیلات منظرعام پر لائی جائیں: راشدعلوی
چین کی بادشاہت کے ساتھ پیرس اولمپکس کا اختتام
ملک میں روس جیسی آمرانہ صورتحال: کجریوال

گریٹ ہال آف دی پیپل میں پوٹین کا خیرمقدم کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ خلیج میں پھر سے جنگ سے بچنا چاہئے۔انہوں نے زوردیا کہ بات چیت جاری رہنی چاہئے۔ جنگ جلد ختم  ہوجائے تو توانائی سپلائی میں سدھار ہوسکتا ہے۔ 14  اور 15 مئی کو امریکی صدر ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے ایران۔ اسرائیل ٹکراؤ‘ آبنائے ہرمز اور باہمی تجارتی اختلافات پر تفصیلی بات چیت کی تھی۔ امریکی صدر کے دو رہ کے چند دن بعد پوٹین‘ بیجنگ پہنچے ہیں۔

چینی اور روسی صدر کی ملاقات پر سبھی کی نظریں ہیں کیونکہ چین اور روس‘ ایران میں اسٹراٹیجک پارٹنرس ہیں۔تہران کے ساتھ ان کے گہرے معاشی اور فوجی تعلقات ہیں۔ یہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز بند کردینے کے ایران کے سخت موقف پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے بڑا عالمی توانائی بحران پیدا ہوا ہے۔

شی جن پنگ نے بین الاقوامی صورتِ حال کو نازک قراردیا۔ انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر بظاہر تنقید میں کہا کہ یکطرفہ نظام اور بالادستی پھر سر اٹھارہے ہیں۔ اس کے باوجود عوام کی یہ امنگیں برقرار ہیں کہ امن ہو‘ ترقی ہو اور تعاون ہو۔ چین اور روس کے قریبی اشتراک پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کو عالمی نظام ِ حکمرانی کو مزید منصفانہ اور معقول بنانے کے لئے مل جل کر کام کرنا چاہئے۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور دنیا کے اہم بڑے ممالک ہونے کے ناطہ چین اور روس کو اسٹراٹیجک اور دیرپا تناظر میں کام کرنا چاہئے۔انہیں ترقی کا محرک بننا چاہئے۔ انہیں عالمی حکمرانی کو مزید منصفانہ اور معقول بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ کریملن کے بموجب پوٹین کے اس دورہ میں تقریباً 40  معاملتیں ہوسکتی ہیں۔ پوٹین نے جن کا یہ 25 واں دورہ ئ چین ہے‘ شی جن پنگ کو پیارا دوست قراردیا۔