دہلی

اسلامی حملوں کی وجہ سے ہندوستانی سماج میں برائیاں پیداہوئیں:آرایس ایس

گوپال نے کہاکہ مسلمان حکمرانوں کے حملوں سے قبل خواتین”ششترتھ“ (علمی مباحث) میں حصہ لیاکرتی تھیں اورویدوں کے حوالے تک دیاکرتی تھیں۔

نئی دہلی: آرایس ایس کے ایک سینئر عہدیدارنے کہاہے اسلامی حملہ کی وجہ سے ہندوستانی سماج میں بچپن کی شادی‘ ستی پرتھا‘بیواؤں کی دوبارہ شادی پرپابندی جیسی سماجی برائیاں پیداہوئی ہیں۔  ان حملوں  کے نتیجہ میں خواتین کومحکوم بنایاگیا ہے۔

متعلقہ خبریں
بچپن کی شادی کا شکار دو نابالغ لڑکیوں کو معاوضہ دینے کا حکم
بی جے پی، خواتین کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھتی ہے: راہول گاندھی (ویڈیو)
آر ایس ایس پر امتناع عائد کردیا جائے گا:ادھوٹھاکرے
مودی حکومت، دستور کے لئے خطرہ: راہول گاندھی
ذات پات کے اختلافات دور کرنے خصوصی کوششیں ضروری: موہن بھاگوت

دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام ایک پروگرام”ناری شکتی سنگم“سے خطاب کرتے ہوئے آرایس ایس کے سینئر عہدیدار کرشناگوپال نے کہاکہ قرون وسطیٰ میں ان حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کیلئے خواتین اورلڑکیوں پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

 یہ بتاتے ہوئے کہ قرون وسطیٰ کا دور ایک انتہائی دشوار وقت تھا۔ انہوں نے کہاکہ سارا ملک غلامی کے خلاف جدوجہد کررہاتھا۔ مندروں کومنہدم کیاجارہاتھا۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں کوتباہ کیاجارہاتھا اورخواتین خطرہ میں تھیں۔

لاکھوں عورتوں کو اغوا کیاگیاتھا اوردنیابھر کے بازاروں میں بیچاگیاتھا۔ چاہے وہ(احمدشاہ) ابدالی ہویا(محمد) غوری ہو یامحمود غزنوی ہو۔ یہ سب یہاں کی عورتوں کولے گئے تھے اورانہیں دنیابھر کے بازاروں میں بیچاگیاتھا۔ یہ انتہائی توہین کا دورتھا۔

اسی لئے خواتین اورلڑکیوں کومحفوظ رکھنے ہمارے سماج نے ان پر کئی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے نتیجہ میں ان لوگوں نے اسکولوں اور گروکل کوجانابند کردیاتھا اورغیرتعلیم یافتہ رہ گئی تھیں۔

 آر ایس ایس لیڈرنے یہ بھی دعویٰ کیاکہ بچپن کی شادی کا طریقہ اس لئے شروع کیاگیاتھا تاکہ لوگ اپنی بچیوں کوحملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کم عمری میں ہی بیاہ دیں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ ہمارے ملک میں ’ستی پرتھا‘جیسی کوئی رسم نہیں تھی۔لیکن پھر جوہر کی رسم شروع ہوئی اورخواتین نے خودکو ستی کرناشروع کردیا۔ بیواؤوں کی دوبارہ شادی پر پابندی لگادی گئی تھی کیونکہ جنگوں میں مردوں کی کثیر تعداد ہلاک ہوجاتی تھی، جس کے نتیجہ میں مردوں کی قلت پیدا ہوگئی تھی۔

 گوپال نے کہاکہ مسلمان حکمرانوں کے حملوں سے قبل خواتین”ششترتھ“ (علمی مباحث) میں حصہ لیاکرتی تھیں اورویدوں کے حوالے تک دیاکرتی تھیں۔آرایس ایس لیڈرنے کہاکہ کئی برسوں کے دوران صورتحال میں تبدیلی آئی۔

آج لڑکیاں بورڈ امتحانات میں لڑکوں پر سبقت حاصل کرتی ہیں اورمختلف شعبوں میں خواتین اہم حصہ اداکررہی ہیں۔ بہرحال انہوں نے خواتین کومغربی کلچرسے متاثرہونے کے خلاف انتباہ دیا۔ انہوں نے کہاکہ ٹکنالوجی کا استعمال کریں، طیارے اڑائیں،اسرومیں کام کریں، سائنسداں، ڈاکٹر یا انجینئربنیں۔ آپ جو چاہے کریں لیکن خاتون ہی رہیں۔

a3w
a3w