یوروپ

نیتن یاہو اب کسی سے بات کرنے کے بھی قابل نہیں رہے: طیب اردغان

صدر اردغان نے قزاقستان سے واپسی پر ہوائی جہاز میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے، جہاں انہوں نے ترک ریاستوں کی تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 10ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اب کسی سے بات کرنے کے قابل نہیں رہے "ہم نے انہیں حذف کر کے پھینک دیا ہے۔”

متعلقہ خبریں
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا اعلان
ویڈیو: اسرائیل میں حکومت کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے
حماس کی شرائط منظور نہیں: نتن یاہو
اسرائیل میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

صدر اردغان نے قزاقستان سے واپسی پر ہوائی جہاز میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے، جہاں انہوں نے ترک ریاستوں کی تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 10ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ اس کے ذمہ دار نمبر ایک خود اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہیں اور اب اسرائیل میں بھی نیتن یاہو کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے نیتن یاہو سے کہا، "تم جو کچھ کیا اس کا بائبل یا تورات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ بائبل، تورات اور نہ ہی زبور اسے قبول کرتے ہیں۔” ایردوان نے کہا، "نیتن یاہو وہ شخص ہے جس نے اسرائیلی عوام کے ردعمل کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور وہ اپنے شہریوں کی حمایت کھو چکے ہیں۔ وہ مذہبی اصطلاحات کا استعمال کرکے قتل عام کی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔”

اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ وہ اس ماہ منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے ریاض سربراہی اجلاس کو اہمیت دیتے ہیں، صدر نے کہا کہ وہ (غزہ کی پٹی میں) جنگ بندی کے حصول کے لیے کام کریں گے۔

قومی خفیہ سروس کے سربراہ ابراہیم قالن کی طرف سے اسرائیلی فریق، فلسطین اور حماس سے ملاقات کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے ایردوان نے کہا، "نیتن یاہو اب وہ شخص نہیں رہا جس سے ہم بات کر سکتے ہیں۔ ہم نے انہیں حذف کر کے ایک طرف کر دیا ہے۔ اس مسئلے پر فیصلہ ہم اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران کریں گے۔”

اردغان نے غزہ میں ضمانت کے معاملے پر بھی بات کی،”اگر ترکیہ کو ضامن کی ذمہ داری سونپی گئی تو ہم اس کام کے لیے تیار ہیں، ہم ایک ضامن ملک ہو سکتے ہیں، قبرص میں، یونان ضامن ملک ہو سکتا ہے، انگلینڈ ایک ضامن ملک ہو سکتا ہے، اگر ترکی ضامن ملک ہے تو کیوں نہ کیا غزہ میں اس جیسا ڈھانچہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہو گی جو تاریخ کے ذریعے حال اور مستقبل کی تشکیل کرے گی۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ایسے فارمولوں کی حمایت کریں گے جو خطے میں امن و سکون لائے گا، صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے منصوبوں کے حامی نہیں ہوں گے جو فلسطینیوں کی زندگیوں کو تاریک کر دیں اور انہیں تاریخ کے مرحلے سے مٹا دیں۔

اردغان نے بتایا کہ اس سے قبل قتل عام کی یاد دلانے پر اپنی گردنیں جھکانی والی مغربی ریاستیں ، غزہ کے قتل عام کے بارے میں اپنے رویے کی وجہ سے شرمندگی تل دب چکی ہیں اور "کچھ ممالک جو ‘آزادی’ کی آڑ میں دہشت گرد تنظیم کے عسکریت پسندوں کو رعایت دیتے ہیں اب انہوں نے فلسطینی پرچم پر پابندی لگانے تک کی کوشش کی ہے۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دنیا کو اب فلسطینی بچوں کی چیخیں سننی پڑ رہی ہیں، صدر نے کہا کہ "یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان معصوموں، مظلوموں کی مدد کا ہاتھ بڑھائیں۔ یہ انسانیت کے ناطے ہمارا فرض ہے۔”

یہ بتاتے ہوئے کہ اسرائیل، جس نے غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کی کوشش کی، اور عالمی برادری، جس نے ظلم پر آنکھیں بند کر رکھی تھیں، شہریوں، مریضوں اور بچوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا، صدر نے کہا کہ یورپی یونین نے ایک بہت ہی عجیب و غریب کردار ادا کیا۔یہ اس عرصے کے دوران متضاد کردار اور منصفانہ نقطہ نظر کو آگے نہیں بڑھا سکا۔

a3w
a3w