قومی

طلبا کی آواز دبانے کی کوشش نہ کی جائے ان کی بات سنی جائے۔ سونم وانگ چک کی بیوی کا بیان

سماجی جہدکار سونم وانگ چک کی بیوی گیتانجلی انگمو نے کہا ہے کہ طلبا کو مجرم بناکر پیش کرنے کے بجائے ان کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی نیت پر شک کرنے کے بجائے ان کے خدشات اور مطالبات کو سنا جانا چاہئے۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) سماجی جہدکار سونم وانگ چک کی بیوی گیتانجلی انگمو نے کہا ہے کہ طلبا کو مجرم بناکر پیش کرنے کے بجائے ان کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی نیت پر شک کرنے کے بجائے ان کے خدشات اور مطالبات کو سنا جانا چاہئے۔

ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹیوز لداخ (ایچ آئی اے ایل) کی شریک بانی گیتانجلی انگمو نے جنترمنتر پر جاری طلبا کے احتجاج کو دہلی کے دیگر مقامات پر پیش آنے والے پرتشدد واقعات سے جوڑنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے اس پرامن تحریک کو تشدد سے جوڑنا‘ مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ٹیچر ہونے کے ناطہ انہیں یہ دیکھ کر گہرا دکھ پہنچا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس پرامن تحریک کو تشدد سے جوڑا جارہا ہے۔ طلبا کی شبیہ کو داغدار کیا جارہا ہے۔

ان کے مطابق جنترمنتر پر احتجاج مکمل پرامن انداز میں جاری ہے اسی لئے اگر دہلی کے کسی اور حصہ میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں تو اس کا الزام کسی ثبوت کے بغیر طلبا تحریک پر عائد نہیں کیا جانا چاہئے۔

انگمو نے مظاہرین کے صبر‘ ضبط اور تحمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اصل ضرورت ان کے تحفظات ِ ذہنی کو دور کرنے کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ نظام اپنے ہی طلبا پر فوری شک کرنے لگتا ہے لیکن ان کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔