ہائیڈرا کمشنر رنگناتھ کو ہٹانے کے احکامات درست، بی آر ایس قائد کا دعویٰ
حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسٹس مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن (HYDRA) کمشنر اے وی رنگناتھ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات پر بی آر ایس رہنما نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں درست قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتیں غلطیاں نہیں کر رہیں بلکہ سرکاری عہدیدار عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حیدرآباد: حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسٹس مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن (HYDRA) کمشنر اے وی رنگناتھ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات پر بی آر ایس رہنما نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں درست قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتیں غلطیاں نہیں کر رہیں بلکہ سرکاری عہدیدار عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی آر ایس رہنما نے کہا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کے حالیہ ریمارکس چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے ان بیانات کا بالواسطہ جواب ہیں، جن میں انہوں نے عدالتوں کی جانب سے غلط فیصلے کیے جانے کی بات کہی تھی۔
یہ معاملہ شرلنگم پلی منڈل کے کونڈاپور علاقے میں سروے نمبر 60 کی 350 مربع گز نجی اراضی سے متعلق ہے۔ سودھارانی نامی خاتون نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ HYDRA حکام نے بغیر کسی نوٹس کے ان کی نجی زمین میں داخل ہوکر کمپاؤنڈ وال کو منہدم کردیا۔
اس درخواست کی سابقہ سماعت کے دوران HYDRA کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ انہدامی کارروائی تحصیلدار کے احکامات پر کی گئی تھی۔ تاہم عدالت کی ہدایت پر گزشتہ روز پیش ہونے والی تحصیلدار نے واضح کیا کہ انہوں نے اس طرح کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے تھے۔
تحصیلدار کے مطابق سروے نمبر 60 میں موجود نجی اراضی پر انہدامی کارروائی کی گئی، جبکہ ان کی جانب سے جاری احکامات صرف سروے نمبر 58 کی سرکاری اراضی سے متعلق تھے۔
اس وضاحت پر عدالت نے HYDRA کے طرز عمل پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ جج نے سوال کیا کہ کیا HYDRA نے نجی اراضی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے ساتھ ساتھ عدالت کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے؟
عدالت نے HYDRA کی مبینہ عجلت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ نوٹس جاری ہونے تک انتظار کیوں نہیں کیا گیا۔ جج نے نجی اراضی پر اس طرح کی کارروائی کے اختیار اور ممکنہ دباؤ سے متعلق بھی سوالات کیے۔
بی آر ایس رہنما نے عدالت کے ان مشاہدات کا خیرمقدم کرتے ہوئے HYDRA کمشنر رنگناتھ کو ہٹانے سے متعلق احکامات کو درست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش عدالتی نظام کی جانب سے نہیں بلکہ بعض سرکاری اداروں اور عہدیداروں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا HYDRA ایک متوازی حکومت کی طرح کام کر رہا ہے اور کیا بغیر جوابدہی کے، قانونی طریقہ کار اور عدالتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے انہدامی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
دریں اثنا، سودھارانی کی جانب سے دائر درخواست پر ہائی کورٹ نے سماعت 8 اگست تک ملتوی کردی ہے اور مزید احکامات تک HYDRA کو متنازعہ اراضی میں داخل نہ ہونے کی ہدایت دی ہے۔
یہ تمام الزامات اور عدالتی مشاہدات زیرِ سماعت معاملے کا حصہ ہیں، جبکہ اراضی کے تنازع پر حتمی فیصلہ عدالت کی جانب سے ابھی دیا جانا باقی ہے۔