سدھی ونائک مندر سے سالانہ 18 کروڑ روپے کی چوری کا ٹرسٹ پر سنگین الزام
ٹھاکرے نے بتایا کہ کچھ ملازمین کو دان پیٹی سے رقم چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا
ممبئی : نونرمان سینا کے کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سربراہ راج ٹھاکرے نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا اور ممبئی کے مشہور سدھی ونایک مندر اور اجودھیا کے رام مندر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھا کر ملک بھر میں سیاسی ہلچل مچا دی۔
راج ٹھاکرے نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ممبئی کے سدھی ونایک مندر کے دان پیٹی (خیرات کے ڈبے) سے ہر سال تقریباً 18 کروڑ روپے کی چوری ہو رہی تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں مندر ٹرسٹ کی جانب سے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو لکھے گئے ایک مبینہ خط کا حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس خط میں ٹرسٹیوں نے مندر کی آمدنی میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے دان پیٹی کی رقم میں فرق پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ٹھاکرے نے بتایا کہ کچھ ملازمین کو دان پیٹی سے رقم چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
اس سے پہلے ہر بدھ کو دان پیٹی میں جمع ہونے والی رقم 50 لاکھ روپے سے کم ہوتی تھی، لیکن ملازمین کی گرفتاری کے بعد صرف تین ہفتوں میں یہ رقم ڈیڑھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے ہفتہ وار جمع ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ غائب ہو رہا تھا، جس سے مندر کو سالانہ تقریباً 18کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ راج ٹھاکرے نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اپنے خطاب میں راج ٹھاکرے نے اودھیا کے رام مندر میں مبینہ طور پر 1200 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جذباتی طور پر اہم اس مقام پر اتنی بڑی رقم کی چوری کا الزام لگایا جا رہا ہے، لیکن حکومت کا کوئی بھی شخص اس پر بولنے کو تیار نہیں ہے۔
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو یہی لوگ رام مندر کے نام پر ووٹ مانگنے آتے ہیں، لیکن جب اتنی بڑی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو سب خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے وزیراعظم سے اس معاملے پر واضح موقف اپنانے کا مطالبہ کیا۔
راج ٹھاکرے نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران وزیراعظم مودی اور ان کی والدہ کے خلاف مبینہ طور پر استعمال ہونے والی نازیبا زبان پر بھی بات کی۔ انہوں نے اس طرح کی زبان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کی ماں کے خلاف ایسی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔
تاہم، انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کے لوگوں کو بھی اخلاقی حدود میں رہنے کا سبق دیں، کیونکہ صرف ان کی ہی ماں نہیں، دوسروں کی بھی مائیں ہیں۔