لاوارث لاش کے ساتھ شرمناک سلوک، میت کچرا گاڑی میں لاد کر کوڑے دان کے حوالے
جمعہ کے روز باغدری کے جنگل میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی ایک لاش برآمد ہوئی تھی۔ لاش تقریباً چار سے پانچ دن پرانی اور بری طرح گل چکی تھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لیا، مگر شناخت نہ ہونے پر اسے لاوارث قرار دے دیا گیا۔
دموہ: مدھیہ پردیش کے ضلع Damoh میں انتظامیہ اور نگر پریشد کی سنگ دلانہ لاپرواہی کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تندوکھیڑا قصبے میں ایک نامعلوم شخص کی لاش کو عزت و احترام کے ساتھ آخری رسومات ادا کرنے کے بجائے کچرا اٹھانے والی ٹریکٹر ٹرالی میں ڈال کر لے جایا گیا اور بعد میں کچرے کے ڈمپنگ گراؤنڈ کے قریب دفن کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز باغدری کے جنگل میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی ایک لاش برآمد ہوئی تھی۔ لاش تقریباً چار سے پانچ دن پرانی اور بری طرح گل چکی تھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لیا، مگر شناخت نہ ہونے پر اسے لاوارث قرار دے دیا گیا۔
اس کے بعد نگر پریشد کے ملازمین نے انسانی وقار کو نظرانداز کرتے ہوئے لاش کو اسی ٹریکٹر ٹرالی میں ڈال دیا، جس سے روزانہ شہر کا کچرا اٹھایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹرالی میں پہلے سے ہی گندگی اور کچرا موجود تھا۔ لاش کو اسی حالت میں پورے شہر سے گزار کر کھکاریا روڈ کے قریب لے جایا گیا۔
انتہا تو اس وقت ہوگئی جب لاش کو کسی قبرستان یا شمشان گھاٹ کے بجائے میونسپلٹی کے کچرا ڈمپنگ گراؤنڈ کے پاس دفن کر دیا گیا۔ سندیپنی اسکول کے قریب سڑک کنارے ایک گڑھا کھود کر میت کو مٹی کے سپرد کیا گیا، جہاں شہر بھر کا کچرا پھینکا جاتا ہے۔
معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے تھانہ انچارج رویندر باگری نے کہا کہ لاش کافی حد تک گل چکی تھی، اسی لیے نگر پریشد کو قواعد کے مطابق دفنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا لاش گل جانے سے ایک انسان کی آخری عزت بھی ختم ہو جاتی ہے؟ کیا انتظامیہ کے پاس ایک مناسب مردہ گاڑی تک موجود نہیں تھی؟