تلنگانہ میں خصوصی رعایت 91 عمر قید قیدیوں کوملا نئی زندگی کا موقع
رہا کیے گئے قیدیوں میں 85 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ معافی کے رہنما اصولوں کے مطابق رہائی کے اہل قرار پائے تھے۔
حیدرآباد : تلنگانہ کے محکمۂ جیل و اصلاحی خدمات نے ریاستی حکومت کی جانب سے اصلاحی اور بازآبادکاری اقدامات کے تحت دی گئی خصوصی معافی کے نتیجے میں 91 عمر قید کے قیدیوں کو منگل کے روز رہا کر دیا۔
رہا کیے گئے قیدیوں میں 85 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ معافی کے رہنما اصولوں کے مطابق رہائی کے اہل قرار پائے تھے۔
محکمۂ جیل کی جانب سے قیدیوں کی سماجی بحالی اور انہیں معاشرے کا مفید رکن بنانے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں رہا ہونے والے 38 قیدیوں کو ایندھن کی ریٹیل دکانوں اور متعلقہ شعبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں اور دوبارہ جرائم کی طرف نہ لوٹیں۔
دوسری جانب باقی 53 قیدیوں نے رہائی کے بعد خود روزگار، زراعت، خاندانی کاروبار اور دیگر پیشوں کو اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو بھی مناسب رہنمائی اور معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی نئی زندگی کامیابی کے ساتھ شروع کر سکیں۔
خواتین قیدیوں کی بازآبادکاری کے لیے ایک خصوصی اقدام کے تحت جیل ترقیاتی فنڈ کے ذریعے چلائی جانے والی خود روزگار معاونتی اسکیم کے تحت چار خواتین قیدیوں کو سلائی مشینیں فراہم کی گئیں۔ اس اقدام کا مقصد انہیں مالی طور پر خود کفیل بنانا اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر محکمۂ جیل و اصلاحی خدمات کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سومیا مشرا نے کہا کہ یہ رہائی محض قید سے آزادی نہیں بلکہ ذمہ داری، وقار اور امید پر مبنی ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحی نظام کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ افراد کو بہتر شہری بنانا اور انہیں معاشرے میں دوبارہ باعزت مقام دلانا بھی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور محکمۂ جیل اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ رہا ہونے والے افراد کو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔