ساکال ہندو تنظیم کی لوجہاد کیخلاف ریالی، ویڈیو گرافی کرنے سپریم کورٹ کا حکم

حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ ساکال ہندو سماج اتوار کو ممبئی میں ایک عوامی اجلاس منعقد کرنے والا ہے کہ اسکو اس طرح کی شرط کے ساتھ منظوری دی جائے گی کہ کوئی نفرت انگیز تقریر نہ کی جائے۔

ممبئی:عروس البلاد میں مبینہ ‘لو جہادکے خلاف ‘ ساکال ہندونامی تنظیم کی ریلی پر سپریم کورٹ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پولیس کو واقعہ کی ویڈیو گرافی کرنے کاحکم دیا ہے ،اس سے قبل نکالی گئی ریلی اور جلسہ میں مسلم مخالف نعرے لگائے گئے اور اشتعال انگیزی کی گئی تھی۔

ریاستی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ ساکال ہندو سماج اتوار کو ممبئی میں ایک عوامی اجلاس منعقد کرنے والا ہے کہ اسکو اس طرح کی شرط کے ساتھ منظوری دی جائے گی کہ کوئی نفرت انگیز تقریر نہ کی جائے۔ واضح رہے کہ نومبر سے، جب اس نے "مذہبی تبدیلی مذہب ” اور "لو جہاد” کے خلاف عوامی اجلاس کا سلسلہ شروع کیا، ساکال ہندو سماج نے ریاست کے 36 میں سے 20 سے زیادہ اضلاع کا احاطہ کیا ہے۔

ممبئی میں منعقد ہونے والی ریلی شہر میں سماج کی تیسری ریلی ہوگی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’’لو جہاد اور ہندوؤں کی مذہبی تبدیلی کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں‘‘۔

اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سینئر وکیل کپل سبل کے اس مطالبے کو قبول کر لیا، جو عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئے، کہ میٹنگ کی ویڈیو گرافی کی جائے،تاکہ راست رپورٹنگ کی جاسکے۔ پولیس کو میٹنگ کی ویڈیو گرافی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو کا مواد اسے دستیاب کرایا جائے۔ سماج میں دائیں بازو کی تنظیمیں شامل ہیں جیسے وی ایچ پی، بجرنگ دل، ہندو جن جاگرتی سمیتی، ہندو پرتستان، درگا واہنی، وشو شری رام سینا اور سناتن سنستھا۔

دریں اثنا، بہت سے گروپوں اور تنظیموں نے ممبئی کے پولیس کمشنر وویک پھانسالکر کو خط لکھ کر ساکال ہندو سماج کے جلسہ عام کی اجازت نہ دینے کی اپیل کی تھی۔لیکن اشتعال انگیزی کے باوجودانہیں اجازت دی گئی ہے۔