تلنگانہ

تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہائیڈرا پر سخت برہمی، دو مقدمات میں کارروائی پر سوالات

تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسیٹس مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن ایجنسی (ہائیڈرا) کی کارروائیوں پر ایک بار پھر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ دو الگ الگ مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت کے دو سینئر ججوں نے نجی املاک کے معاملے میں ہائیڈرا کے اقدامات پر سوالات اٹھائے اور حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسیٹس مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن ایجنسی (ہائیڈرا) کی کارروائیوں پر ایک بار پھر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ دو الگ الگ مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت کے دو سینئر ججوں نے نجی املاک کے معاملے میں ہائیڈرا کے اقدامات پر سوالات اٹھائے اور حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔

پہلے معاملے میں جسٹس بی وجے سین ریڈی نے حیات نگر منڈل کے صاحب نگر کالونی میں واقع پلاٹ نمبر 10 پر ہائیڈرا کی جانب سے لگائے گئے بورڈ کو چیلنج کرنے والی جھانسی اور ایک دیگر شخص کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزاروں کا الزام تھا کہ نجی ملکیت کی زمین کو سرکاری اراضی قرار دیتے ہوئے وہاں ہائیڈرا کی جانب سے بورڈ نصب کیا گیا۔ عدالت نے ہائیڈرا کو ہدایت دی کہ مذکورہ بورڈ کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ کیا زمین کے مالکان کو نوٹس دیے بغیر حکام اپنی مرضی سے کارروائی کرسکتے ہیں۔ عدالت نے ہائیڈرا سے معاملے کی مکمل تفصیلات کے ساتھ کاؤنٹر داخل کرنے کو کہا اور آئندہ سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔

دوسرے معاملے میں جسٹس این پی شروَن کمار نے کونڈاپور میں ایک نجی اراضی پر کمپاؤنڈ وال اور واچ مین روم کو مبینہ طور پر بغیر نوٹس اور وضاحت کا موقع دیے منہدم کرنے پر ہائیڈرا اور تحصیلدار کے اقدامات پر سوال اٹھائے۔

یہ درخواست پیمّاسانی سدھارانی نے دائر کی تھی، جس میں کونڈاپور میں 350 مربع گز کے پلاٹ پر واقع کمپاؤنڈ وال اور واچ مین روم کو ہائیڈرا کی جانب سے منہدم کیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت نے شیری لنگم پلی تحصیلدار سے سوال کیا کہ کونڈاپور کے سروے نمبر 60 میں واقع نجی اراضی کی کمپاؤنڈ وال منہدم کرنے کے لیے ہائیڈرا کو کن شواہد کی بنیاد پر خط لکھا گیا تھا۔

عدالت نے ہائیڈرا سے بھی سوال کیا کہ متاثرہ افراد کو نوٹس دیے بغیر انہدامی کارروائی کیسے کی گئی۔ عدالت نے تحصیلدار کو ہدایت دی کہ وہ 30 جولائی کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہوں اور وضاحت کریں کہ مذکورہ اراضی کو سرکاری زمین قرار دیتے ہوئے ہائیڈرا کو معلومات کیوں فراہم کی گئیں۔

دو الگ الگ مقدمات میں ہائی کورٹ کی سخت برہمی کے بعد ایک بار پھر ہائیڈرا کی کارروائیوں اور نجی املاک کے خلاف مبینہ طور پر مناسب قانونی طریقہ کار پر عمل نہ کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔