تلنگانہ

تلنگانہ کو شرح پیدائش میں شدید کمی کا سامنا

جہاں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، اب وہی تلنگانہ کو بھی اپنے لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے کہنا پڑ سکتا ہے۔

حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) تلنگانہ کو شرح پیدائش میں شدید کمی کا سامنا ہے، جس سے اس کی آبادی کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

جہاں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، اب وہی تلنگانہ کو بھی اپنے لوگوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے کہنا پڑ سکتا ہے۔

ریاست کی فرٹیلٹی کی شرح 1.7 اور 1.9 کے درمیان گر گئی ہے، جو کہ 2.1 فیصد فرٹیلٹی کی شرح سے بہت کم ہے جو مستحکم آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ ریاست میں فرٹیلٹی کی شرح مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس مسئلہ کو حل کرنے کے بارے میں فوری غور و خوص شروع کرنا ضروری ہے۔

اپولو ہاسپٹلس کی ڈاکٹر سنگیتا ریڈی نے کہا کہ ہندوستان میں فرٹیلٹی شرح(پیدائش) کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے، 36 میں سے 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول تلنگانہ میں پیدائش کی شرح کم ہے۔ شرح پیدائش میں کمی ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مناسب اقدامات کے بغیر، ریاست کا آبادیاتی توازن مستقبل میں شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر درگا جی راؤ، اویسس فرٹیلٹی کے شریک بانی اور میڈیکل ڈائریکٹر نے کہا کہ تلنگانہ کو فرٹیلٹی کے مسائل کا عالمی مرکز بننے کا خطرہ ہے۔

تلنگانہ کے شہری اور نیم شہری دونوں علاقوں میں بہت سے جوڑے بچے پیدا کرنے کے لیے جدوجہد سے دوچار ہیں۔ طرز زندگی کی تبدیلیوں سے لے کر قدرتی عوامل تک فرٹیلٹی میں کمی ایک وجہ ہے۔ ڈاکٹر درگا نے کہا کہ بروقت شعور بیداری سے ان مسائل کا سامنا کررہے بہت سے جوڑوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔

ہندوستان میں چھ میں سے ایک جوڑے کو متاثر کرنے والے فرٹیلٹی کے مسائل اب بڑھ کر چار میں سے ایک ہو گئے ہیں، جو تلنگانہ میں بڑھتے ہوئے مسئلہ کی عکاسی کرتے ہیں۔

تلنگانہ، آندھرا پردیش،ٹاملناڈو اور کیرالہ جیسی جنوبی ریاستوں جنہوں نے ہندوستان میں بڑھتی آبادی کے مسئلہ سے نمٹا ہے، کی 2026 کے بعد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں حلقوں کی حد بندی کے بعد پارلیمنٹ میں نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔