تلنگانہ

بجٹ اجلاس کا گورنر کے خطبہ سے آغاز ہوگا: حکومت

ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا گورنر کے خطبہ سے آغاز ہوگا اور ہائی کورٹ میں حکومت کی جانب سے داخل کردہ لنچ موشن پٹیشن سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔

حیدرآباد: ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا گورنر کے خطبہ سے آغاز ہوگا اور ہائی کورٹ میں حکومت کی جانب سے داخل کردہ لنچ موشن پٹیشن سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔

متعلقہ خبریں
مودی، گورنر کے ذریعہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کئے جانے پر خاموش کیوں ہے؟: ممتا بنرجی
تلنگانہ کو مزید قرض حاصل کرنے کا موقع
پرگتی بھون اور راج بھون میں اختلافات برقرار
کرشنا ٹریبونل میں حکومت اے پی کے خلاف شکایت درج
گورنر کی جانب سے واپس کردہ 4بلز کی اسمبلی میں دوبارہ منظوری

کچھ عرصہ سے گورنر ڈاکٹر تملی سائی سوندرا راجن اور حکومت کے درمیان دوریاں بڑھ گئی تھی۔ گورنر اور حکومت کے درمیان بڑھتے اختلافات کے درمیان حکومت نے عدالت سے رجوع ہونا بہتر سمجھا، ریاستی بجٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے گورنر کی جانب سے رضامندی ظاہر کرنے میں تاخیر کے باعث حکومت کو عدالت سے رجوع ہونا پڑا تھا۔

3 / فروری سے اسمبلی اور کونسل کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہونا ہے۔ حکومت کی جانب سے 3 / فروری کو بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے گورنر کی رضامندی ضروری ہے۔ 21 / فروری کو گورنر کی اجازت کے لئے مکتوب روانہ کیا گیا تھا، تاہم گورنر کی جانب سے ابھی تک رضامندی ظاہرنہیں کی گئی۔

دوسری طرف دفتر گورنر سے ریاستی حکومت کو ایک علیحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے وضاحت مانگی گئی کہ بجٹ اجلاس کا آغاز کیا گورنر کے خطبہ سے ہوگا؟ اگر ہوگا تو تقریر کی کاپی ابھی تک نہیں بھیجی گئی، جس پر حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، جس کے بعد گورنر نے بھی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں لیا چونکہ 3 / فروری کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے۔

حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے معروف وکیل دشینت داوے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت سے خواہش کی گئی کہ گورنر کو ہدایت جاری کریں کہ عوامی بجٹ 2023-24ء کو فوری اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت دیں۔ حکومت کی اپیل پر چیف جسٹس اجل بھوپاں اور جسٹس تکارام جی پر مشتمل بنچ پر سماعت ہوئی۔

دوسری طرف حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دستور کے آرٹیکل 202 کے تحت اسمبلی میں بجٹ سیشن کرنے کے لئے گورنر کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ دوسری طرف دشینت داوے نے کہا کہ وہ حکومت کو بتائیں گے کہ گورنر پر تنقید نہ کرے۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق حکومت اور گورنر کے وکیل نے غور و خوص کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے داخل کردہ عرضی سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔

قبل ازیں حکومت کے وکیل دشینت داوے نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ دستور کی خلاف ورزی کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے 1974ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کردہ فیصلہ کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 174,153 کے مطابق گورنرس کے رویہ پر عدالتوں کو سوال کرنے کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ فینانس کے عہدیداروں نے گورنر سے رابطہ کیا تاہم گورنر نے دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ گورنر کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اسمبلی میں اِن کا خطبہ ہوگا؟ دشینت داوے نے کہا کہ عدالت میں گورنر کے خلاف درخواست داخل کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے مگر ناگزیر حالات میں ایسا کرنا پڑا۔ دوسری طرف عدالت نے دشینت داوے سے جاننا چاہا کہ مباحث کے آغاز پر ہی عدالت کو مباحث میں کیوں گھسیٹا جارہا ہے۔

a3w
a3w