سوشیل میڈیاقومی

سیاحوں کو برہنہ کر کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا دیا گیا، کار کی توڑ پھوڑ (ویڈیو)

طدلچسپ بات یہ ہے کہ خاتون نے بعد میں ہجوم کو روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہو سکتی ہے، لیکن مشتعل ہجوم نے ایک نہ سنی اور تشدد جاری رکھا۔

رشی کیش: اتراکھنڈ کے شہر رشی کیش سے ہجوم کے تشدد (Mob Vigilantism) کا ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ہریدوار روڈ پر ‘کالے کی ڈھال’ کے قریب ہریانہ سے آئے سیاحوں پر ایک خاتون اور نابالغ لڑکی کو ہراساں کرنے کا الزام لگا کر ہجوم نے انہیں برہنہ کیا، بے رحمی سے پیٹا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

متعلقہ خبریں
پلر نمبر 100 پر سنسنی خیز واقعہ، نشے میں دھت شخص تار سے لٹک گیا

پولیس نے اس معاملے میں اقدامِ قتل سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دن دہاڑے ایک شخص کو برہنہ حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے پیٹا جا رہا ہے، جبکہ ہجوم مسلسل اس پر حملہ کر رہا ہے۔ دیگر ویڈیوز میں سیاحوں کی کار کو بھی بری طرح تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ہریانہ کے ضلع کیتھل کے رہائشی ستویر سنگھ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، وہ 20 مئی کو اپنے دو دوستوں کے ساتھ کار میں رشی کیش جا رہے تھے۔ ‘کالے کی ڈھال’ کے پاس ایک خاتون، جو اپنے بچے کے ساتھ اسکوٹر پر تھیں، نے ان کی گاڑی کو روکا اور الزام لگایا کہ کار سوار نوجوانوں نے ان کی طرف نازیبا اشارے کیے ہیں۔

نوجوانوں نے خاتون کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ محض سیاح ہیں اور ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

اسی دوران وہاں مقامی لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا اور انہوں نے بغیر حقائق جانے نوجوانوں پر حملہ کر دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خاتون نے بعد میں ہجوم کو روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہو سکتی ہے، لیکن مشتعل ہجوم نے ایک نہ سنی اور تشدد جاری رکھا۔

نوجوانوں کو سرعام برہنہ کر کے گھمایا گیا، شدید زدوکوب کیا گیا، ان کے دو موبائل فون چھین لیے گئے اور کار بھی توڑ دی گئی۔ بعد میں کچھ راہگیروں نے بیچ بچاؤ کرا کے ان کی جان بچائی۔

رشی کیش اسٹیشن کے انسپکٹر کیلاش چندر بھٹ نے تصدیق کی ہے کہ اس تشدد کے معاملے میں اشوک تھاپا، امیت، نریش، آیوش اور کئی نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ملزمین کے خلاف اقدامِ قتل، شدید نقصان پہنچانے، غیر قانونی طور پر اکٹھے ہونے اور توڑ پھوڑ کی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، دوسری جانب (خاتون) کی طرف سے چھیڑ چھاڑ یا ہراسانی کی کوئی باقاعدہ شکایت اب تک درج نہیں کرائی گئی ہے۔