کرناٹک

رکن اسمبلی نے بل کی کاپیاں ڈپٹی اسپیکر کے منہ پر پھینکیں

کرناٹک اسمبلی میں چہارشنبہ کو ہنگامہ خیز مناظر دیکھے گئے جب ناراض بی جے پی قانون سازوں نے بلوں کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ڈپٹی اسپیکر رودرپا لامانی کے منہ پر پھینک دیں۔

بنگلورو: کرناٹک اسمبلی میں چہارشنبہ کو ہنگامہ خیز مناظر دیکھے گئے جب ناراض بی جے پی قانون سازوں نے بلوں کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ڈپٹی اسپیکر رودرپا لامانی کے منہ پر پھینک دیں۔

متعلقہ خبریں
کمیشن نے چامراج نگر سیٹ پر دیا دوبارہ پولنگ کا حکم
”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے کی ودھان سودھا میں گونج، تحقیقاتی ٹیموں کی تشکیل (ویڈیو)
کرناٹک قانون ساز کونسل میں متنازعہ مندر ٹیکس بل کو شکست
بین مذہبی جوڑے کو مارپیٹ،7 افراد گرفتار
6سال سے کوما میں موجود لڑکے کی موت، والدین کا ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

بی جے پی ممبران اسمبلی کے ایوان میں احتجاج کے باعث حالات قابو سے باہر ہوگئے۔ بی جے پی کے وی سنیل کمار، ویداواس کامتھ، آرگا گیانیندرا، یشپال سوورنا و دیگر نے لامانی پر بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینکنا شروع کر دیا۔

جب صبح اجلاس شروع ہوا تو بی جے پی کے قانون سازوں نے پیر اور منگل کو منعقدہ ’یونائیٹڈ وی اسٹانڈ‘ میٹنگ کیلئے کانگریس حکومت کی جانب سے آئی اے ایس افسران کی تعیناتی کا مسئلہ اٹھایا۔ وزیر قانون ایچ کے پاٹل کے حکومت کا دفاع کرنے کے بعد، بی جے پی ارکان اسمبلی احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔

شور شرابے اور ہنگامہ کے درمیان اسپیکر یو ٹی قادر نے وزیر داخلہ جی پرمیشور اور چیف منسٹر سدارامیا کو الگ الگ بیان دینے کی اجازت دی۔ قادر نے 5 بلوں کو منظور کرنے کی بھی اجازت دی۔ اسپیکر نے کہا کہ دوپہر کے کھانے کا وقفہ نہیں ہوگا، ایوان چلتا رہے گا۔

ارکان اسمبلی اب بجٹ پر بات کریں گے، جو لوگ دوپہر کا کھانا کھانا چاہتے ہیں وہ جاکر آ سکتے ہیں اور ڈپٹی اسپیکر لامانی سے کارروائی جاری رکھنے کیلئے کہا۔ اب انہیں فیصلہ کرنا تھا کہ ان کا احتجاج جاری رہنا چاہئے یا نہیں۔

سابق وزیر کمار نے ڈپٹی اسپیکر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب ایوان میں حالات ٹھیک نہیں ہے تو آپ کیسے کارروائی چلا رہے ہیں اور بل کی پھٹی کاپیاں لامانی کے منہ پر پھینک دیں۔ لامانی کی حفاظت کے لئے مارشلز کو بلایا گیا لیکن کاغذات کے ٹکڑے اُن کے چہرے کے آگے اڑتے رہے۔

ایک موقع پر لامانی نے مارشلز کو حکم دیا کہ انہیں باہر بھیج دیں۔ انہیں ایوان کی کارروائی تین بجے تک ملتوی کرنے پر مجبور کیا گیا۔

کانگریس کے قانون ساز بشمول وزراء کرشنا بائرے گوڑا اور بی ایس سریشا (بیراٹھی) گوڑا نے مارشل کی سرزنش کی کہ جب (لامانی) کے چہرہ پر کاغذات پھینکے جا رہے تھے تو آپ کیا کر رہے تھے؟

سریش نے کہا کہ مارشلز کو معطل کر دینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے ایک دلت کے ساتھ ایسا ہونے دیا جو کرسی پر تھا۔ امکان ہے کہ کانگریس بی جے پی ممبران اسمبلی کو معطل کرنے پر زور دے گی۔

a3w
a3w