تلنگانہ

شرمیلا تلنگانہ کی سیاست میں اہم قوت کے طورپر اُبھری ہیں: سروے

وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی صدر وائی ایس شرمیلا، دوبرسوں کے مختصر ترین عرصہ میں تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم قوت کے طوپر اُبھری ہیں۔ ایک سروے میں یہ بات بتائی گئی۔

حیدرآباد: وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی صدر وائی ایس شرمیلا، دوبرسوں کے مختصر ترین عرصہ میں تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم قوت کے طوپر اُبھری ہیں۔ ایک سروے میں یہ بات بتائی گئی۔

متعلقہ خبریں
شرمیلا کی امین پیر درگاہ پر حاضری
کے سی آر پر شکست کا خوف طاری: شرمیلا
شرمیلا کی ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک شیو اکمار سے ملاقات
ٹوئٹر پرشرمیلا اور کے ٹی آر میں لفظی جھڑپ
بھوک ہڑتال کیلئے شرمیلا کو ہائی کورٹ کی مشروط اجازت

متحدہ ریاست آندھراپردیش کے سابق چیف منسٹر راج شیکھرریڈی کی دختر شرمیلا اس وعدہ کے ساتھ 2021 میں تلنگانہ کی سیاست میں داخل ہوئی تھی کہ وہ اپنے والد کی حکمرانی کو بحال کریں گی جن کی متعدد فلاحی اقدامات سے آج بھی یہاں کے عوام مستفید ہورہی ہیں۔

وائی ایس آر ٹی پی کی قائد نے کہاکہ وہ ناقابل تسخیر جذبہ کے ساتھ 3500 کیلو میٹر تک پیدل یاترا کرچکی ہیں اور کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کیخلاف انتھک جدوجہد سے وہ اپنے والد راج شیکھرریڈی کی وراثت کی جانشین، کے چندرشیکھرراؤ کی حقیقی حریف اور ریاست میں متلاشی متبادل کے طورپر دیکھی جارہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں سنٹر فار مارکٹ ریسرچ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ (سی ایم ایس ڈی) کے سروے آف تلنگانہ میں یہ بات سامنے آئی ہی۔یہ سروے گزشتہ ماہ دسمبر میں ریاست بھر میں کیا گیاتھا۔ پارٹی کے مطابق اس سروے میں شرمیلا کو چیف منسٹری کے عہدہ کیلئے تین مضبوط دعویداروں میں سرفہرست مقام دیا گیا۔

اس سروے میں علاقہ کے انتہائی مقبول چیف منسٹر کے طورپر راج شیکھرریڈی کو 46 فیصد ووٹ ملے کیونکہ ریڈی کو فلاحی اسکیمات کے طورپر یاد کیا گیا۔ ان کی فلاحی اسکیمات نے لوگوں کی اقتصادی اور سماجی زندگی میں تبدیلی کیلئے جادوئی چھڑی کے طورپر کام کیا ہے۔

سروے میں تلنگانہ کے60 اسمبلی حلقہ جات کا احاطہ کیا گیا۔ اس سروے کے نتائج جاری کئے گئے۔ 12 فیصد عوام نے رائے دی کہ وہ شرمیلا کو مستقبل کے چیف منسٹر کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں۔ تلنگانہ کے جنوبی اضلاع جیسے کھمم، رنگاریڈی، نلگنڈہ، میدک اور محبوب نگر میں شرمیلا کی مقبولیت کا انفرادی فیصد بہت زیادہ ہے۔

پالیر، بھدراچلم، یلندو، کھمم، اچم پیٹ، ونپرتی اور دیگر اسمبلی حلقوں میں وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کا کیڈر بہت زیادہ ہے۔ اگر آج کی تاریخ میں انتخابات منعقد کئے جاتے ہیں تو ان حلقوں میں شرمیلا کی پارٹی کا ووٹ شیئر 20 فیصد رہے گا۔ شمالی تلنگانہ کے اضلاع میں عوام کی بڑی تعداد نے شرمیلا کو والد راج شیکھرریڈی کا جانشین قراردیا۔

a3w
a3w