کرناٹک

منگلورو دھماکہ: مستقبل قریب میں ایک اور حملہ کرنے اسلامک ریزسٹنس کونسل کا انتباہ

اسلامک ریزسٹنس کونسل (آئی آر سی) نے جو ایک غیر معروف اسلامی تنظیم ہے‘ آج 19 نومبر کے منگلورو آٹو دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرلی اور مستقبل میں ایک اور حملہ کا انتباہ دیا۔

بنگلورو: اسلامک ریزسٹنس کونسل (آئی آر سی) نے جو ایک غیر معروف اسلامی تنظیم ہے‘ آج 19 نومبر کے منگلورو آٹو دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرلی اور مستقبل میں ایک اور حملہ کا انتباہ دیا۔

تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور دہشت گردی نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچنے اپنی کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔

آئی آر سی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گرفتار شدہ مشتبہ دہشت گرد ان کا بھائی ہے اور کہاکہ منگلورو شہر میں واقع کادری مندر ان کا نشانہ تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ منگلورو‘ زعفرانی دہشت گردوں کا قلعہ بن گیا ہے۔

اگرچیکہ اس مرتبہ ہماری کوششیں ناکام ہوچکی ہیں لیکن ہم ریاستی اور مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کو چکمہ دیتے ہوئے ایک اور حملہ کرنے کی تیاری کریں گے۔ کادری کے مندر کو نشانہ بنانے ہمارے بھائی کی کوشش ناکام رہی ہے۔ یہ حملہ کامیاب نہیں ہوا۔

ریاستی اور مرکزی ایجنسیاں ہمارے بھائیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ وہ ان کا پیچھا کررہی ہیں۔ بہرحال ہم ان کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مستقبل میں ایک اور حملہ کیاجائے گا۔ ایجنسیاں جو کوکر بم دھماکہ کو عالمی دہشت گردانہ سازش کا حصہ سمجھ رہے ہیں‘ اب اسلامی تنظیم کے دعوؤں کی توثیق کرنے میں مصروف ہیں۔

یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ یہ بم دھماکہ 19 نومبر کو ایک آٹو میں ہوا تھا۔ کوکر بم بڑے پیمانہ پر ہلاکتوں کیلئے تیار کیا گیا تھا تاکہ اس ساحلی علاقے اور ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی جاسکے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ حملہ آور نے ابتداء میں چیف منسٹر بسواراج بومائی کے پروگرام کو نشانہ بنایا تھا اور بعد ازاں بچوں کے ایک میلہ میں دھماکہ کرنا چاہتا تھا جس کا اہتمام آر ایس ایس سے وابستہ اداروں نے کیا تھا۔ وزیرداخلہ اے جنیندر نے اعلان کیا ہے کہ اس کیس کو عنقریب این آئی اے کے حوالے کردیا جائے گا۔

a3w
a3w