بلڈوزر کارروائی، 240ایڈوکیٹ چیمبرس منہدم
اترپردیش کے دارالحکومت میں اتوار کے دن کشیدگی دیکھی گئی۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے بھاری پولیس فورس کے ساتھ ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر مبینہ غیرقانونی ایڈوکیٹ چیمبرس اور دوکانوں کو ڈھا دگیا۔
لکھنؤ (آئی اے این ایس) اترپردیش کے دارالحکومت میں اتوار کے دن کشیدگی دیکھی گئی۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن نے بھاری پولیس فورس کے ساتھ ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر مبینہ غیرقانونی ایڈوکیٹ چیمبرس اور دوکانوں کو ڈھا دگیا۔
اس نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کی ہدایت پر یہ کارروائی کی۔ عہدیداروں کے بموجب سیول کورٹ اینڈ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس کے قریب تقریباً240غیرقانونی چیمبرس اور دوکانوں کو ڈھادیا گیا۔
اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کیلئے بلڈوزرس لائے گئے۔ پی اے سی بھی تعینات تھی۔ انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے وکیلوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔ وکیلوں نے سخت مزاحمت کی۔ پولیس والوں کے ساتھ ان کی بحث و تکرار اور ہاتھاپائی ہوئی۔
تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وکلاء انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں اور انہدامی مہم کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک ڈرامائی واقعہ میں ایک وکیل نے پھانسی لینے کی کوشش کی۔ پولیس والوں نے فوری اسے اس کے چیمبر سے ہٹادیا۔ اِس واقعہ سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
وکیل ایس پی سنگھ نے انہدامی کارروائی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نہ تو باقاعدہ نوٹس جاری کی گئی اور نہ چیمبرس کی نشاندہی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ میں ٹھاکر ہوں، یوگی کی ذات کا ہوں، میں نے ساری زندگی بی جے پی کو ووٹ دیا ہے، آج سے بی جے پی کو کبھی بھی ووٹ نہیں دوں گا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عدالت کے احاطہ کے باہر سرکاری زمین پر انکروچمنٹ کی وجہ سے سڑک تنگ ہوگئی تھی۔