دہلی

مودی حکومت نہ صرف مسلمانوں بلکہ اسلام کو بھی نقصان پہنچانا چاہتی ہے: جمعیت علمائے ہند

جمعیت علمائے ہند نے اس کے بقول ”بڑھتی فرقہ پرستی“ دستوری اداروں کی ”خاموشی“ اور ملک میں مسلمانوں اور اسلامی علامتوں کے خلاف بڑھتی ”ڈرانے دھمکانے والی سیاست“ پر سخت تشویش ظاہر کی۔ اُس نے موجودہ صورتحال کو ”انتہائی پریشان کن“ قرار دیا۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) جمعیت علمائے ہند نے اس کے بقول ”بڑھتی فرقہ پرستی“ دستوری اداروں کی ”خاموشی“ اور ملک میں مسلمانوں اور اسلامی علامتوں کے خلاف بڑھتی ”ڈرانے دھمکانے والی سیاست“ پر سخت تشویش ظاہر کی۔ اُس نے موجودہ صورتحال کو ”انتہائی پریشان کن“ قرار دیا۔

متعلقہ خبریں
اے ٹی ایس کے ہاتھوں مسلم نوجوان گرفتار، پی ایف آئی کی حمایت کا بھی الزام
تمام سیاسی پارٹیوں کی متفقہ پالیسی”مسلمانوں کو اپنے پیروں پر کھڑانہ ہونے دو“۔مولانا ارشدمدنی
تلنگانہ بھر میں جمعیۃ علماء کی گونج، 30 جون کو حیدرآباد میں عظیم الشان اجتماع کی تیاری
نوح فساد معاملہ:مزید پانچ مسلم نوجوانوں کو سیشن عدالت نے ضمانت پر رہاکرنے کا حکم جاری کیا

جمعیت کی دوروزہ ورکنگ کمیٹی میں یہ ریمارکس کئے گئے۔ میٹنگ کے بعد جمعیت کے سربراہ مولانا ارشدمدنی نے میٹنگ میں جاری اعلامیہ کو ایکس پر پوسٹ کے ذریعہ شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال، بڑھتی فرقہ پرستی، دستوری اداروں کی خاموشی، مسلمانوں اور اسلامی علامتوں کے خلاف بڑھتے اقدامات اور نفرت پر مبنی سیاست انتہائی تشویش ناک ہے تاہم مسلمان نہ کبھی جھکے ہیں اور نہ کبھی جھکیں گے۔

مسلمانوں کو محبت سے تو زیرکیا جاسکتا ہے لیکن طاقت، دھمکیوں اور ظلم و زیادتی کے ذریعہ انہیں جھکایا نہیں جاسکتا۔ جمعیت نے الزام عائد کیا کہ نفرت کی سیاست اب دھمکانے کی سیاست بن چکی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں جبری سیاسی و سماجی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرنا ہے۔

اقتدار کیلئے امن و اتحاد کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں مذہبی انتہاء پسندی اور نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ قانون کے رکھوالے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جمعیت نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد وقوع پذیر سیاسی صورتحال کا حوالہ دیا۔ اُس نے کہا کہ بعض سیاسی قائدین میں فرقہ وارانہ صف بندی کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے اور اُس سے چمٹے رہنے کا جنون تیز ہوگیا ہے۔ اکثریت کو اقلیت کے خلاف لاکھڑا کرنے کے لئے مذہبی جذبات کا استعمال کیا جارہا ہے۔ حالانکہ دستوری اصول یہ ہے کہ حکومتیں انصاف اور مساوات کے ساتھ کام کریں۔

جمعیت نے مغربی بنگال کے چیف منسٹر سویندو ادھیکاری کے مبینہ ریمارک کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ تفرقہ پسند سیاسی بیان دیتے ہوئے نفرت کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ مغربی بنگال کے نومنتخب چیف منسٹر کا یہ کہنا کہ وہ صرف ہندوؤں کیلئے کام کریں گے، پوری طرح دستوری اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے کیونکہ چیف منسٹر تمام شہریوں سے انصاف کرنے کا حلف لیتا ہے۔

جمعیت علمائے ہند نے الزام عائد کیا کہ ملک کو نظریاتی ریاست میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بند کوشش کی جارہی ہے۔ یکسا ں سیول کوڈ، وندے ماترم کالزوم، مساجد اور مدرسوں کے خلاف کارروائی، ایس آئی آر کے نام پر شہریوں کو رائے دہی کے حق سے محروم کرنا، ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جمعیت نے کہا کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف قانون اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

جمعیت نے موجودہ سیاسی ماحول کا تقابل پچھلی حکومتوں سے کیا اور کہا کہ پچھلی حکومتوں نے مسلمانوں کو سماجی، تعلیمی، سیاسی اور معاشی نقصان پہنچایا تھا لیکن موجودہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ سابق میں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا اب اسلام خود نشانہ پر ہے۔ 2014ء کے بعد بننے والے قوانین اور حالیہ اقدامات اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف مسلمانوں بلکہ اسلام کو بھی نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔

جمعیت علمائے ہند نے دعویٰ کیا کہ عالمی سطح پر اسلام مخالف پروپگنڈہ منظم طریقہ سے جاری ہے۔ تاہم اس نے زور دے کر کہا کہ ایسی کوششیں آخر کار ناکام ہوجائیں گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے والے خودمٹ گئے۔ اسلام زندہ ہے اور روزمحشرتک زندہ رہے گا۔

مولانامدنی نے وسیع تر سماجی اور سیاسی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں، سیول سوسائٹی گروپس اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ پرست اور فاشسٹ طاقتوں کے خلاف متحدہ مزاحمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام انصاف پسند جماعتوں، سماجی تنظیموں اور محب وطن شہریوں سے ہماری اپیل ہے کہ وہ جمہوری اور سماجی سطح پر فرقہ پرست اور فاشسٹ طاقتوں کے خلاف متحد ہوجائیں اور بھائی چارہ، رواداری، انصاف اور ملک میں دستور کی بالادستی کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں۔