خانہ کعبہ کے قریب قابلِ اعتراض اے آئی (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
ویڈیوز میں سے ایک میں مذکورہ شخص بھگوا اسکارف پہنے ہوئے خانہ کعبہ میں ایک خنزیر کے ساتھ داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو وہاں گندگی پھیلاتا ہے۔ ویڈیو میں وہ شخص یہ کہتا ہوا سنا جا سکتا ہے کہ وہ دنیا کا پہلا آدمی ہے جو مکہ مدینہ میں خنزیر لایا ہے۔
بہار: مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے انتہائی قابلِ اعتراض مناظر پر مبنی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ذریعے تیار کردہ تین ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص انسٹاگرام پر سامنے آئی ہیں۔ پٹنہ کے گاؤں اختیار پور منجھولی کے رہائشی روہت کمار نامی شخص نے یہ ویڈیوز جمعہ 17 جولائی کو اپنے انسٹاگرام پروفائل پر پوسٹ کی تھیں، جنہیں اب حذف کر دیا گیا ہے۔
ان ویڈیوز میں سے ایک میں مذکورہ شخص بھگوا اسکارف پہنے ہوئے خانہ کعبہ میں ایک خنزیر کے ساتھ داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو وہاں گندگی پھیلاتا ہے۔ ویڈیو میں وہ شخص یہ کہتا ہوا سنا جا سکتا ہے کہ وہ دنیا کا پہلا آدمی ہے جو مکہ مدینہ میں خنزیر لایا ہے۔ دوسری ویڈیو میں اسے مکہ مدینہ میں داخل ہوتے ہوئے ‘شولنگ’ دکھاتے ہوئے پیش کیا گیا ہے، جبکہ تیسری ویڈیو میں مقدس احاطے کے بالکل اندر قدیم ہندو مورتیاں دکھائی گئی ہیں۔
روہت کمار کے انسٹاگرام پر 25.8k فالوورز ہیں۔ اس کا ایک اور اکاؤنٹ بھی ہے جس پر صرف سات پوسٹس اور 220 فالوورز ہیں۔ ان ویڈیوز پر انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور کئی لوگوں نے بہار پولیس اور پٹنہ پولیس کو ٹیگ کیا ہے۔ بہار پولیس نے سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاملہ متعلقہ افسر کو بھیج دیا گیا ہے، تاہم جب پٹنہ کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SSP) کارتیکیا کمار شرما سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے علاوہ بہار پولیس کے سوشل میڈیا ونگ سے رابطہ کرنے پر متعلقہ افسر نے کہا کہ انہیں ان مبینہ ویڈیوز کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔
واضح رہے کہ بھارتیہ نیاۓ سنہیتا (BNS) کے تحت کسی مذہب کی توہین کے ارادے سے کسی عبادت گاہ یا مقدس شے کو نقصان پہنچانا یا ناپاک کرنا (دفعہ 298)، الفاظ، علامات یا الیکٹرانک ذرائع سے کسی بھی طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی جان بوجھ کر کی گئی کوشش (دفعہ 299)، اور کسی شخص کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ارادے سے الفاظ یا اشارے استعمال کرنا (دفعہ 302) قابلِ سزا جرائم ہیں۔